السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الوصايا— وصیت کا بیان۔
باب: من احتاط فأوصى بقضاء ديونه باب: اس شخص کا بیان جس نے احتیاط برتی اور اپنے قرضے ادا کرنے کی وصیت کی
حدیث نمبر: 12681
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، فَذَكَرَ قِصَّةَ مَقْتَلِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَفِيهَا: عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " يَا عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، انْظُرْ مَا عَلَيَّ مِنَ الدَّيْنِ، فَحَسَبُوهُ فَوَجَدُوهُ ثَمَانِينَ أَلْفًا أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ "، فَقَالَ: " إِنْ وَفَّى لَهُ مَالُ آلِ عُمَرَ فَأَدِّهِ مِنْ أَمْوَالِهِمْ، وَإِلَّا فَسَلْ فِي بَنِي عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ، فَإِنْ لَمْ تَفِ أَمْوَالُهُمْ فَسَلْ فِي قُرَيْشٍ، وَلَا تَعْدُهُمْ إِلَى غَيْرِهِمْ، فَأَدِّ عَنِّي هَذَا الْمَالَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى.حافظ ثناء اللہ
حضرت عمرو بن میمون نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قتل کا قصہ بیان کیا اور فرمایا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے عبداللہ! میرے قرض کو دیکھو۔ انہوں نے حساب لگایا تو وہ اسی ہزار تھا یا اس کے قریب قریب۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر آل عمر کے مال سے پورا ہو جائے تو ادا کر دینا ورنہ بنی عدی بن کعب سے سوال کر لینا، اگر ان کے مال سے بھی پورا نہ ہو تو قریش سے سوال کر لینا اور ان کے علاوہ کسی اور کی طرف نہ جانا اور میری طرف سے قرض ادا کر دینا۔