السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الوصايا— وصیت کا بیان۔
باب: ما يجوز للوصي أن يصنعه في أموال اليتامى باب: وصی کے لیے یتیموں کے مال میں جو تصرفات کرنا جائز ہیں ان کا بیان
حدیث نمبر: 12675
قَدْ مَضَى فِي كِتَابِ الزَّكَاةِ وَالْبُيُوعِ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا، وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنْ قَوْلِهِ: " ابْتَغُوا فِي أَمْوَالِ الْيَتَامَى؛ لَا تَسْتَهْلِكُهَا الصَّدَقَةُ ".حافظ ثناء اللہ
کتاب الزکاۃ اور کتاب البیوع میں یوسف بن ماہک رحمہ اللہ کے واسطے سے نبی کریم ﷺ سے مرسل روایت، اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ان کے اپنے قول کے طور پر (یہ روایت) گزر چکی ہے کہ: ”یتیموں کے مال میں (تجارت کے ذریعے نفع) تلاش کرو، (کہیں ایسا نہ ہو کہ) زکاۃ انہیں ختم کر ڈالے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " كَانَ مَعَهُ مَالُ يَتِيمٍ، فَكَانَ يُزَكِّيهِ ".حافظ ثناء اللہ
حبیب بن ابی ثابت رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس یتیم کا مال تھا، وہ اس کی زکاۃ دیتے تھے۔