السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الوصايا— وصیت کا بیان۔
باب: والي اليتيم يأكل من ماله إذا كان فقيرا مكان قيامه عليه بالمعروف باب: یتیم کا سرپرست اگر محتاج ہو تو اس کی دیکھ بھال کے عوض دستور کے مطابق اس کے مال میں سے کھا سکتا ہے
حدیث نمبر: 12670
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ: يَا أَبَا عَبَّاسٍ، إِنَّ لِي إِبِلًا وَأَنَا أَمْنَحُ مِنْهَا وَأُفْقِرُ، وَفِي حِجْرِي يَتِيمٌ، وَلَهُ إِبِلٌ، فَمَا يَحِلُّ لِي مِنْ إِبِلِ يَتِيمِي؟ قَالَ: " إِنْ كُنْتَ تَبْغِي ضَالَّةَ إِبِلِهِ، وَتَهْنَأُ جَرْبَاهَا، وَتَلُوطُ حِيَاضَهَا، وَتَسْعَى عَلَيْهَا، فَاشْرَبْ غَيْرَ مُضِرٍّ بِنَسْلٍ، وَلَا نَاهِكٍ فِي حَلْبٍ " وَقَدْ رُوِّينَا فِي كِتَابِ الْبُيُوعِ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَّاسٍ فِي قَضَاءِ مَا أَكَلَ مِنْهُ إِذَا أَيْسَرَ، وَهُوَ قَوْلُ عَبِيدَةَ، وَمُجَاهِدٍ، وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَأَبِي الْعَالِيَةِ، وَرُوِّينَا عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ وَعَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ: لَا يَقْضِيَهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
قاسم بن محمد کہتے ہیں کہ ایک آدمی عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، اس نے کہا: اے ابن عباس! میرا ایک اونٹ ہے وہ کسی کو دے دیا ہے اور میں فقیر ہوں اور میری کفالت میں ایک یتیم ہے، اس کا بھی اونٹ ہے، پس میرے لیے یتیم کے اونٹ سے کیا حلال ہے؟ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اگر تو اس کا گمشدہ اونٹ تلاش کرتا ہے، خارش زدہ اونٹ کو تیل ملتا ہے، ان کے پینے کے حوض کو درست کرتا ہے اور پانی کی باری پر انہیں پانی پلاتا ہے تو ان کی نسل کو نقصان دیے بغیر اور سارا دودھ نکالے بغیر پی لیا کر۔