السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الوصايا— وصیت کا بیان۔
باب: والي اليتيم يأكل من ماله إذا كان فقيرا مكان قيامه عليه بالمعروف باب: یتیم کا سرپرست اگر محتاج ہو تو اس کی دیکھ بھال کے عوض دستور کے مطابق اس کے مال میں سے کھا سکتا ہے
حدیث نمبر: 12669
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْحَارِثِ حَدَّثَهُمْ قَالَ: ثنا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي فَقِيرٌ لَيْسَ لِي شَيْءٌ، وَلِي يَتِيمٌ، قَالَ: فَقَالَ: " كُلْ مِنْ مَالِ يَتِيمِكَ غَيْرَ مُسْرِفٍ، وَلَا مُبَادِرٍ، وَلَا مُتَأَثِّلٍ ".حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، اس نے کہا: ”میں فقیر ہوں اور میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے اور میرے پاس ایک یتیم ہے (میں اس کا والی ہوں)۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یتیم کے مال سے بغیر اسراف کے کھا لے اور نہ جلدی جلدی کرنا اور نہ جمع کرنا۔“