وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: أنا سَعِيدٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عِكْرِمَةَ بْنَ خَالِدٍ يَقُولُ: " أَرَادَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أُمِّ الْحَكَمِ فِي شَكْوَاهُ أَنْ يُخْرِجَ امْرَأَتَهُ مِنْ مِيرَاثِهَا، فَأَبَتْ، فَنَكَحَ عَلَيْهَا ثَلَاثَ نِسْوَةٍ، وَأَصْدَقَهُنَّ أَلْفَ دِينَارٍ كُلَّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ، فَأَجَازَ ذَلِكَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ، وَشَرَّكَ بَيْنَهُنَّ فِي الثُّمُنِ " قَالَ الشَّافِعِيُّ: أَرَى ذَلِكَ صَدَاقَ مِثْلِهِنَّ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَبَلَغَنِي أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ قَالَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ: زَوِّجُونِي؛ لَا أَلْقَى اللهَ وَأَنَا أَعْزَبُ.عمرو بن دینار نے عکرمہ بن خالد سے سنا، وہ کہتے تھے کہ عبدالرحمن بن ام حکم نے اپنی بیماری میں اپنی بیوی کو وراثت سے نکالنے کا ارادہ کیا، اس نے انکار کر دیا۔ پس عبدالرحمن نے اس کے ساتھ تین اور عورتوں سے نکاح کر لیا اور ان کا حق مہر ہر ایک کے لیے ایک ایک ہزار دینار مقرر کر دیا اور عبدالملک بن مروان نے اس کی اجازت دے دی اور اس (پہلی بیوی) کو ان کے ساتھ ثمن میں شریک کیا۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کا مطلب ہے ان جیسا حق مہر اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے یہ بات پہنچی ہے کہ انہوں نے اپنی وفات والے مرض میں کہا تھا، میری شادی کر دو، میں اللہ سے اس حال میں نہیں ملنا چاہتا کہ میں کنوارا ہوں۔