السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الوصايا— وصیت کا بیان۔
باب: الرجل يقول: ثلث مالي إلى فلان يضعه حيث أراه الله، وما يختار للموصى إليه أن يعطيه أهل الحاجة من قرابة الميت حتى يغنيهم ثم رضعاءه ثم جيرانه باب: اس شخص کا بیان جو کہے: میرے مال کا ایک تہائی فلاں شخص کے لیے ہے وہ اسے وہاں خرچ کرے جہاں اللہ اسے سجھائے، اور وصی (جسے وصیت کی گئی ہو) کے لیے یہ پسندیدہ ہے کہ وہ میت کے حاجت مند رشتہ داروں کو دے یہاں تک کہ انہیں غنی کر دے، پھر دودھ شریک رشتہ داروں کو، پھر پڑوسیوں کو دے
حدیث نمبر: 12611
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ الدِّينَوَرِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُفَضَّلِ بْنِ دَاخِرَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ قَالَ: حَدَّثَتْنَا دَلَالُ بِنْتُ أَبِي الْمُدِلِّ قَالَتْ: حَدَّثَتْنَا الصَّهْبَاءُ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا أَحَقُّ، أَوْ قَالَتْ: مَا حَدُّ الْجِوَارِ؟ قَالَ: " أَرْبَعُونَ دَارًا ".حافظ ثناء اللہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! ہمسائے کی کیا حد ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”چالیس گھروں تک۔“