السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الوصايا— وصیت کا بیان۔
باب: الوصية في سبيل الله عز وجل باب: اللہ عزوجل کے راستے میں وصیت کرنے کے بیان میں
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ: إِنَّهُ أُرْسِلَ إِلِيَّ بِدَرَاهِمَ أَجْعَلُهَا فِي سَبِيلِ اللهِ، وَإِنَّ مِنَ الْحَاجِّ مَنْ بَيْنِ مُنْقَطَعٍ بِهِ وَبَيْنَ مَنْ قَدْ ذَهَبَتْ نَفَقَتُهُ، أَفَأَجْعَلُهَا فِيهِمْ؟ قَالَ: " نَعَمْ، اجْعَلْهَا فِيهِمْ؛ فَإِنَّهُ فِي سَبِيلِ اللهِ، قَالَ: قُلْتُ: إِنِّي أَخَافُ أَنْ يَكُونَ صَاحِبِي إِنَّمَا أَرَادَ الْمُجَاهِدِينَ؟ قَالَ: اجْعَلْهَا فِيهِمْ؛ فَإِنَّهُمْ فِي سَبِيلِ اللهِ "، قَالَ: قُلْتُ: إِنِّي أَخَافُ اللهَ أَنْ أُخَالِفَ مَا أُمِرْتُ بِهِ، قَالَ: فَغَضِبَ وَقَالَ: " وَيْحَكَ أَوَلَيْسَ بِسَبِيلِ اللهِ؟ " هَذَا مَذْهَبٌ لِابْنِ عُمَرَ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّهَا: تَخْرُجُ فِي الْغَزْوِ.انس بن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: میری طرف کچھ درہم بھیجے گئے ہیں کہ ان کو اللہ کے راستے میں وقف کروں، اور بیشک حاجیوں کا خرچہ ختم ہونے والا ہے، کیا ان میں تقسیم کر دوں؟ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ہاں، ان میں تقسیم کر دو، وہ بھی اللہ کا راستہ ہی ہے۔ میں نے کہا: مجھے ڈر ہے کہ میرا دوست یہ ارادہ نہ رکھتا ہو کہ مجاہدوں میں تقسیم ہو، ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: حاجیوں میں تقسیم کر دو، وہ بھی «فِي سَبِيلِ اللّٰهِ» ”اللہ کے راستے میں“ ہی ہے۔ میں نے کہا: مجھے ڈر ہے کہ میں اس کا مخالف نہ بن جاؤں جس کا مجھے حکم دیا گیا ہے، وہ غصے میں آگئے اور کہا: تیرے لیے ہلاکت ہے، کیا وہ اللہ کے راستے میں نہیں ہیں؟ یہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کا مذہب تھا۔