السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الوصايا— وصیت کا بیان۔
باب: الوصية في سبيل الله عز وجل باب: اللہ عزوجل کے راستے میں وصیت کرنے کے بیان میں
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ ⦗٤٤٩⦘ إِسْحَاقَ، عَنْ عِيسَى بْنِ مَعْقِلِ بْنِ أَبِي مَعْقِلٍ الْأَسَدِيِّ أَسَدِ خُزَيْمَةَ، أَخْبَرَنِي يُوسُفُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَامٍ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ مَعْقِلٍ قَالَتْ: لَمَّا حَجَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِجَّةَ الْوَدَاعِ أَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَتَهَيَّأُوا مَعَهُ، فَتَجَهَّزْنَا، فَأَصَابَتْنِي هَذِهِ الْقُرْحَةُ؛ الْحَصْبَةُ أَوِ الْجُدَرِيُّ، قَالَتْ: فَدَخَلَ عَلَيْنَا مِنْ ذَلِكَ مَا شَاءَ اللهُ، فَأَصَابَنِي مَرَضٌ وَأَصَابَ أَبَا مَعْقِلٍ، فَأَمَّا أَبُو مَعْقِلٍ فَهَلَكَ فِيهَا، قَالَتْ: وَكَانَ لَنَا جَمَلٌ يَنْضَحُ عَلَيْهِ نَخَلَاتٍ لَنَا هُوَ، وَكَانَ هُوَ الَّذِي نُرِيدُ أَنْ نَحُجَّ عَلَيْهِ، قَالَتْ: فَجَعَلَهُ أَبُو مَعْقِلٍ فِي سَبِيلِ اللهِ، قَالَتْ: وَشُغِلْنَا بِمَا أَصَابَنَا، وَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ حِجَّتِهِ جِئْتُ حِينَ تَمَاثَلْتُ مِنْ وَجَعِي فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: " يَا أُمَّ مَعْقِلٍ، مَا مَنَعَكِ أَنْ تَخْرُجِي مَعَنَا فِي وَجْهِنَا هَذَا؟ " قَالَتْ: قُلْتُ: وَاللهِ لَقَدْ تَهَيَّأْنَا لِذَلِكَ، فَأَصَابَتْنَا هَذِهِ الْقُرْحَةُ، فَهَلَكَ فِيهَا أَبُو مَعْقِلٍ، وَأَصَابَنِي مِنْهَا مَرَضٌ، فَهَذَا حِينَ صَحِحْتُ مِنْهَا، وَكَانَ لَنَا جَمَلٌ هُوَ الَّذِي نُرِيدُ أَنْ نَخْرُجَ عَلَيْهِ، فَأَوْصَى بِهِ أَبُو مَعْقِلٍ فِي سَبِيلِ اللهِ، قَالَ: " فَهَلَّا خَرَجْتِ عَلَيْهِ؛ فَإِنَّ الْحَجَّ مِنْ سَبِيلِ اللهِ، أَمَا إِذْ فَاتَتْكِ هَذِهِ الْحِجَّةُ مَعَنَا فَاعْتَمِرِي عُمْرَةً فِي رَمَضَانَ فَإِنَّهَا كَحِجَّةٍ " قَالَ: فَكَانَتْ تَقُولُ: الْحَجُّ حَجٌّ، وَالْعُمْرَةُ عُمْرَةٌ، وَقَدْ قَالَ فِي هَذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَدْرِي أَخَاصَّةً لِي لِمَا فَاتَنِي مِنَ الْحَجِّ، أَمْ هِيَ لِلنَّاسِ عَامَّةً. قَالَ يُوسُفُ: فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ وَهُوَ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ فِي زَمَنِ مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ: مَنْ سَمِعَ هَذَا الْحَدِيثَ مَعَكَ مِنْهَا؟ فَقُلْتُ: مَعْقِلُ بْنُ أَبِي مَعْقِلٍ، وَهُوَ رَجُلٌ بَدَوِيٌّ، قَالَ: فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ مَرْوَانُ، فَحَدَّثَهُ بِمِثْلِ مَا حَدَّثْتُهُ، فَقُلْتُ: يَا مَرْوَانُ، إِنَّهَا حَيَّةٌ فِي دَارِهَا بَعْدُ، فَوَاللهِ مَا اطْمَأَنَّ إِلَى حَدِيثِنَا حَتَّى رَكِبَ إِلَيْهَا فِي النَّاسِ فَدَخَلَ عَلَيْهَا، فَحَدَّثَتْهُ بِهَذَا الْحَدِيثِ.یوسف بن عبداللہ بن سلام اپنی دادی اُمّ معقل رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع کا حج کیا، آپ ﷺ نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ بھی آپ ﷺ کے ساتھ تیاری کریں، ہم نے بھی تیاری کی، پس مجھے خسرہ یا چیچک کی بیماری لگ گئی۔ مجھے بھی بیماری لگ گئی اور ابو معقل رضی اللہ عنہ کو بھی۔ ابو معقل رضی اللہ عنہ تو اس بیماری میں فوت ہو گئے۔ کہتی ہیں: ہمارے پاس ایک اونٹ تھا، اس سے ہم اپنے باغ کو سیراب کرتے تھے اور اسی پر ہم حج کا ارادہ رکھتے تھے۔ ابو معقل رضی اللہ عنہ نے اسے اللہ کے راستے میں وقف کر دیا اور ہمیں بیماری نے روک دیا اور رسول اللہ ﷺ چلے گئے، جب آپ ﷺ حج سے واپس آئے تو میں اپنی بیماری سے ٹھیک ہو چکی تھی، میں آپ ﷺ کے پاس آئی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ام معقل! تجھے ہمارے ساتھ حج کرنے میں کس چیز نے روکا تھا؟“ کہتی ہیں: میں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم نے اس کی تیاری کی تھی، ہمیں یہ بیماری لگ گئی تھی۔ ابو معقل رضی اللہ عنہ کو تو ہلاک کر دیا اور میں بیمار تھی، پس جب میں صحیح ہوئی تو ہمارا اونٹ جس پر حج کا ارادہ تھا، اسے ابو معقل رضی اللہ عنہ نے اللہ کے راستے میں وقف کر دیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو کیوں نہ اس پر نکلی؟ حج بھی اللہ کا راستہ ہی ہے، لیکن اب تجھ سے حج فوت ہو گیا ہے تو تو رمضان میں عمرہ کر لینا وہ بھی حج کی طرح ہی ہوگا۔“ راوی کہتے ہیں: وہ کہتی تھیں: حج حج ہی ہے اور عمرہ عمرہ ہی ہے اور تحقیق اس بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے؛ میں نہیں جانتی کہ میرے لیے خاص ہے کہ مجھ سے حج رہ گیا تھا یا لوگوں کے لیے عام ہے۔ یوسف رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث مروان کو بیان کی، وہ معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں مدینہ کے امیر تھے، اس نے کہا: تیرے ساتھ یہ حدیث کسی اور نے سنی ہے؟ میں نے کہا: معقل بن ابی معقل رضی اللہ عنہ نے اور وہ دیہاتی آدمی ہے۔ مروان نے اس کی طرف پیغام بھیجا۔ پس اس نے بھی میری طرح ہی حدیث بیان کی۔ میں نے کہا: مروان! وہ عورت (ام معقل رضی اللہ عنہا) اپنے گھر میں زندہ ہے۔ اس کے بعد وہ ہماری حدیث پر مطمئن نہ ہوا یہاں تک کہ وہ سوار ہو کر اس کی طرف گیا پھر اس نے یہ حدیث بیان کی۔