السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الوصايا— وصیت کا بیان۔
باب: الوصية بالإعتاق عنه، ومن استحب استغلاء الرقاب وإقلالها أو إكثارها واسترخاصها باب: اپنی طرف سے غلام آزاد کرنے کی وصیت کا بیان، اور اس شخص کا بیان جس نے قیمتی غلام خرید کر آزاد کرنے اور ان کی تعداد کم رکھنے، یا سستے غلاموں کی تعداد زیادہ رکھنے کو مستحب قرار دیا
حدیث نمبر: 12596
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبُخْتُرِيِّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَرْزُوقٍ سَنَةَ خَمْسٍ وَسِتِّينَ وَمِائَتَيْنِ، ثنا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ مَوْلَى آلِ الزُّبَيْرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَرْجَانَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً أَعْتَقَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ بِكُلِّ إِرْبٍ مِنْهَا إِرْبًا مِنْهُ مِنَ النَّارِ، إِنَّهُ لَيَعْتِقُ الْيَدَ بِالْيَدِ، وَالرِّجْلَ بِالرِّجْلِ، وَالْفَرْجَ بِالْفَرْجِ " فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ: أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَقَالَ: ادْعُوا لِي مُطَرِّفًا، وَكَانَ مِنْ أَفْرَهِ غِلْمَانِهِ، فَلَمَّا قَامَ بَيْنَ يَدَيْهِ قَالَ: أَنْتَ حُرٌّ لِوَجْهِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ. أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے کوئی مومن غلام آزاد کیا تو اللہ تعالیٰ اس کے ہر عضو کو اس غلام کے عضو کے بدلے جہنم سے آزاد کردیں گے، بیشک وہ ہاتھ کو ہاتھ کے بدلے، پاؤں کو پاؤں کے بدلے، شرم گاہ کو شرم گاہ کے بدلے آزاد کرے گا۔“ علی بن حسین رحمہ اللہ نے راوی سے کہا: کیا آپ نے یہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ہے؟ اس نے کہا: ہاں۔ علی رحمہ اللہ نے کہا: مطرف کو بلاؤ اور وہ اس کے محنتی غلاموں سے تھے۔ جب وہ سامنے آئے تو کہا: تو اللہ کی رضا کے لیے آزاد ہے۔