السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الوصايا— وصیت کا بیان۔
باب: الوصية بالإعتاق عنه، ومن استحب استغلاء الرقاب وإقلالها أو إكثارها واسترخاصها باب: اپنی طرف سے غلام آزاد کرنے کی وصیت کا بیان، اور اس شخص کا بیان جس نے قیمتی غلام خرید کر آزاد کرنے اور ان کی تعداد کم رکھنے، یا سستے غلاموں کی تعداد زیادہ رکھنے کو مستحب قرار دیا
حدیث نمبر: 12595
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ الْعُمَرِيُّ، وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى ⦗٤٤٧⦘ الْعَبْسِيُّ، قَالَا: أنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أِيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " إِيمَانٌ بِاللهِ، وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِهِ "، قَالَ: فَأِيُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " أَغْلَاهَا ثَمَنًا، وَأَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا "، قَالَ: فَإِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ؟ قَالَ: " تُعِينُ ضَعِيفًا، أَوْ تَصْنَعُ لِأَخْرَقَ "، قَالَ: فَإِنْ لَمْ أَفْعَلْ؟ قَالَ: " تَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّكَ؛ فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ تَصَدَّقُ بِهَا عَلَى نَفْسِكَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مُوسَى، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ هِشَامٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سا عمل افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ پر ایمان لانا اور اس کے راستے میں جہاد کرنا۔“ اس نے کہا: کون سی گردن آزاد کرنا افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو سب سے زیادہ قیمتی ہو اور مالک کی نظر میں پسندیدہ ہو۔“ اس نے کہا: اگر اس کی میں طاقت نہ رکھوں تو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کسی مسلمان کاریگر یا ہنر مند کی مدد کر۔“ اس نے کہا: اگر میں یہ بھی نہ کر سکوں؟ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ کر دے، یہ بھی صدقہ ہے جسے تم خود اپنے اوپر کرو گے۔“