السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الوصايا— وصیت کا بیان۔
باب: ما جاء في قوله عز وجل وليخش الذين لو تركوا من خلفهم ذرية ضعافا خافوا عليهم فليتقوا الله وليقولوا قولا سديدا وما ينهى عنه من الإضرار في الوصية باب: اللہ عزوجل کے اس فرمان ”اور ان لوگوں کو ڈرنا چاہیے جو اگر اپنے پیچھے ناتواں اولاد چھوڑ جائیں تو انہیں ان کا اندیشہ ہو، پس انہیں اللہ سے ڈرنا چاہیے اور سیدھی بات کہنی چاہیے“ کے متعلق جو مروی ہے اور وصیت میں نقصان پہنچانے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 12584
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا ابْنُ شِهَابٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ أَنَّهُ حَضَرَ رَجُلًا يُوصِي فَآثَرَ بَعْضَ الْوَرَثَةِ عَلَى بَعْضٍ، فَقَالَ لَهُ: " إِنَّ اللهَ سُبْحَانَهُ قَدْ قَسَمَ بَيْنَكُمْ فَأَحْسِنِ الْقَسْمَ، وَإِنَّهُ ⦗٤٤٤⦘ مَنْ يَرْغَبْ بِرَأْيِهِ عَنْ رَأْيِ اللهِ يَضِلَّ، فَأَوْصِ لِذِي قَرَابَةٍ مِمَّنْ لَا يَرِثُ، ثُمَّ دَعِ الْمَالَ كَمَا قَسَمَهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ ".حافظ ثناء اللہ
مسروق رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ ایک آدمی کے پاس گئے، وہ وصیت کر رہا تھا اور رشتہ داروں کو بعض پر ترجیح دے رہا تھا، مسروق رحمہ اللہ نے اسے کہا: اللہ تعالیٰ نے تمہارے درمیان اچھی تقسیم کی ہے اور جو اپنی رائے کے ساتھ اللہ کی رائے سے بے رغبتی اختیار کرے گا وہ گمراہ ہو گیا، اپنے ان ورثاء کے لیے وصیت کر جو وارث نہیں ہیں، پھر مال چھوڑ دے جیسے اللہ نے تقسیم کیا ہے۔