حدیث نمبر: 12581
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ الطَّرَائِفِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: " {وَلْيَخْشَ الَّذِينَ لَوْ تَرَكُوا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّيَّةً ضِعَافًا خَافُوا عَلَيْهِمْ} [النساء: ٩]، يَعْنِي الرَّجُلَ يَحْضُرُهُ الْمَوْتُ فَيُقَالُ لَهُ: تَصَدَّقْ مِنْ مَالِكَ، وَأَعْتِقْ، وَأَعْطِ مِنْهُ فِي سَبِيلِ اللهِ، فَنُهُوا أَنْ يَأْمُرُوهُ بِذَلِكَ، يَعْنِي مَنْ حَضَرَ مِنْكُمْ مَرِيضًا عِنْدَ الْمَوْتِ فَلَا يَأْمُرُهُ أَنْ يُنْفِقَ مَالَهُ فِي الْعِتْقِ وَالصَّدَقَةِ وَفِي سَبِيلِ اللهِ، وَلَكِنْ يَأْمُرُهُ أَنْ يُبَيِّنَ مَا لَهُ وَمَا عَلَيْهِ مِنْ دَيْنٍ وَيُوصِي مِنْ مَالِهِ لِذِي قَرَابَتِهِ الَّذِينَ لَا يَرِثُونَ، يُوصِي لَهُمْ بِالْخُمُسِ أَوِ الرُّبُعِ، يَقُولُ: أَيَسُرُّ أَحَدَكُمْ إِذَا مَاتَ وَلَهُ وَلَدٌ ضِعَافٌ، يَعْنِي صِغَارًا، أَنْ يَتْرُكَهُمْ بِغَيْرِ مَالٍ؛ فَيَكُونُوا عِيَالًا عَلَى النَّاسِ، فَلَا يَنْبَغِي أَنْ تَأْمُرُوهُ بِمَا لَا تَرْضَوْنَ بِهِ لِأَنْفُسِكُمْ وَلِأَوْلَادِكُمْ، وَلَكِنْ قُولُوا الْحَقَّ مِنْ ذَلِكَ ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے آیت ﴿وَلْيَخْشَ الَّذِينَ لَوْ تَرَكُوا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّيَّةً ضِعَافًا خَافُوا عَلَيْهِمْ﴾ [سورة النساء: 9] کے بارے میں منقول ہے، یعنی آدمی کو موت آنے لگے تو اسے کہا جائے: اپنے مال سے صدقہ کرو اور آزاد کر دو اور اس سے اللہ کے راستے میں دو۔ پس منع کیا گیا ہے کہ وہ اسے ایسی باتوں کا حکم دیں، یعنی تم میں سے کوئی جس مریض کو موت آئے اس کے پاس آکر اسے یہ حکم نہ دے کہ وہ اپنے مال سے خرچ کر دے۔ آزاد کرنے میں، صدقہ میں، اللہ کے راستہ میں اسے حکم دے کہ وہ واضح کرے اس پر کیا قرض ہے یا کسی دوسرے پر اس کا قرض ہے اور اپنے مال سے وصیت کرے ان رشتہ داروں کے لیے جو وارث نہ ہوں، ان کے لیے خمس یا ربع کی وصیت کرے اور وہ کہے: ”تم میں سے کسی کو پسند ہے کہ جب وہ فوت ہو اور اس کی اولاد چھوٹی ہو اور وہ اسے بغیر مال کے چھوڑ دے اور وہ لوگوں کی محتاج ہو جائے؟“ یہ درست نہیں کہ تم اس بات کا حکم دو جو اپنے لیے اور اپنی اولاد کے لیے پسند نہیں کرتے، لہٰذا حق بات کہو۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الوصايا / حدیث: 12581
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»