السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الوصايا— وصیت کا بیان۔
باب: الوصية بالثلث باب: ایک تہائی مال کی وصیت کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 12569
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ الْعَبَّاسِ، ثنا الْمُنْذِرُ بْنُ شَاذَانَ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، ثنا مَرْوَانُ، عَنْ هَاشِمِ بْنِ هَاشِمٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: مَرِضْتُ فَعَادَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، ادْعُ اللهَ أَنْ لَا يَرُدَّنِي عَلَى عَقِبِي، قَالَ: " لَعَلَّ اللهَ أَنْ يَرْفَعَكَ فَيَنْفَعَ بِكَ نَاسًا "، فَقُلْتُ: أُرِيدُ أَنْ أُوصِيَ، وَإِنَّمَا لِيَ ابْنَةٌ أَفَأُوصِي بِالنِّصْفِ؟ قَالَ: " النِّصْفُ كَثِيرٌ "، قَالَ: قُلْتُ: فَالثُّلُثُ؟ قَالَ: " الثُّلُثُ، وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ، أَوْ كَبِيرٌ "، قَالَ: فَأُوصِي بِالثُّلُثِ، فَجَازَ ذَلِكَ لَهُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ عَدِيٍّ وَقَالَ: فَأَوْصَى النَّاسُ بِالثُّلُثِ، فَأَجَازَ ذَلِكَ لَهُمْ.حافظ ثناء اللہ
عامر بن سعد رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے میری عیادت کی۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! دعا کریں، اللہ مجھے واپس نہ لوٹائے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تجھے بلند کرے گا اور لوگ تجھ سے نفع اٹھائیں گے۔“ میں نے کہا: میں وصیت کا ارادہ رکھتا ہوں اور میری صرف ایک بیٹی ہے، کیا نصف کی وصیت کر دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نصف زیادہ ہے۔“ میں نے کہا: ثلث کی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ثلث ٹھیک اور ثلث بھی زیادہ ہے۔“ پس میں نے ثلث کی وصیت کی۔ آپ ﷺ نے مجھے اجازت دے دی۔