السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الوصايا— وصیت کا بیان۔
باب: الوصية بالثلث باب: ایک تہائی مال کی وصیت کرنے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي رِجَالٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ، مِنْهُمْ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ حَدَّثَهُمْ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، وَابْنُ بُكَيْرٍ، ⦗٤٣٩⦘ عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: جَاءَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي عَامَ حِجَّةِ الْوَدَاعِ، قَالَ: وَبِي وَجَعٌ قَدِ اشْتَدَّ بِي، فَقُلْتُ لَهُ: يَا رَسُولَ اللهِ، قَدْ بَلَغَ مِنِّي الْوَجَعُ مَا تَرَى، وَأَنَا ذُو مَالٍ، وَلَا يَرِثُنِي إِلَّا ابْنَةٌ، أَفَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثَيْ مَالِي؟ قَالَ: " لَا "، قُلْتُ: فَبِالشَّطْرِ؟ قَالَ: " لَا "، قَالَ: قُلْتُ: فَبِالثُّلُثِ؟ قَالَ: " الثُّلُثُ كَبِيرٌ، أَوْ كَثِيرٌ، إِنَّكَ إِنْ تَدَعْ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تَدَعَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ، وَإِنَّكَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً تَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللهِ إِلَّا أُجِرْتَ فِيهَا حَتَّى مَا تَجْعَلَ فِي فِي امْرَأَتِكَ "، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أُخَلَّفُ بَعْدَ أَصْحَابِي؟ فَقَالَ: " إِنَّكَ لَنْ تُخَلَّفَ فَتَعْمَلَ عَمَلًا صَالِحًا إِلَّا ازْدَدْتَ بِهِ دَرَجَةً وَرِفْعَةً، وَلَعَلَّكَ أَنْ تُخَلَّفَ حَتَّى يَنْتَفِعَ بِكَ أَقْوَامٌ وَيُضَرَّ بِكَ آخَرُونَ، اللهُمَّ أَمْضِ لِأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ، وَلَا تَرُدَّهُمْ عَلَى أَعْقَابِهِمْ، لَكِنِ الْبَائِسُ سَعْدُ ابْنُ خَوْلَةَ يَرْثِي لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ مَاتَ بِمَكَّةَ " لَفْظُ حَدِيثِ الْقَطَّانِ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ وَهْبٍ: قُلْتُ فَبِالشَّطْرِ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " لَا، الثُّلُثُ، وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ عَنْ مَالِكٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ.عامر بن سعد بن ابی وقاص رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ حجۃ الوداع کے سال میری عیادت کرنے آئے اور میں بہت زیادہ تکلیف میں تھا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھے بیماری آئی ہے جیسا کہ آپ ﷺ دیکھ رہے ہیں اور میں مالدار ہوں اور میری وارث صرف ایک بیٹی ہے۔ کیا میں اپنے دو تہائی مال کی وصیت نہ کر دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں“ میں نے کہا: نصف کی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں“۔ میں نے پوچھا: ثلث کی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ثلث بھی زیادہ ہے۔ اگر تم اپنے وارثوں کو اپنے پیچھے مالدار چھوڑو تو اس سے بہتر ہے کہ انہیں محتاج چھوڑو اور وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں اور یقین کرو کہ تم جو کچھ بھی خرچ کرو گے اس سے مقصود اللہ کی خوشنودی ہوئی تو تمہیں اس پر ثواب ملے گا یہاں تک کہ اگر تم اپنی بیوی کے منہ میں لقمہ رکھو گے۔“ میں نے کہا: اگر میں اپنے ساتھیوں سے پیچھے چھوڑ دیا جاؤں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم پیچھے چھوڑ دیے جاؤ اور پھر کوئی عمل کرو جس سے اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہو تو تمہارا مرتبہ بلند ہوگا اور امید ہے کہ تم ابھی زندہ رہو گے اور کچھ لوگ تم سے فائدہ اٹھائیں گے اور کچھ نقصان اٹھائیں گے۔ «اللَّهُمَّ أَمْضِ لِأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ، وَلَا تَرُدَّهُمْ عَلَى أَعْقَابِهِمْ» ”اے اللہ! میرے صحابہ کی ہجرت کو کامیاب فرما اور انہیں الٹے پاؤں واپس نہ کر“، البتہ افسوس سعد بن خولہ پر ہے۔“ آپ ﷺ نے اس لیے افسوس کیا تھا کہ ان کا انتقال مکہ میں ہوا تھا۔