حدیث نمبر: 12564
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: أنا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حُجَيْرٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قِيلَ لَهُ: كَيْفَ تَأْمُرُ بِالْعُمْرَةِ قَبْلَ الْحَجِّ وَاللهُ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ {وَأَتَمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ} [البقرة: ١٩٦]؟ فَقَالَ: " كَيْفَ تَقْرَءُونَ الدَّيْنَ قَبْلَ الْوَصِيَّةِ وَالْوَصِيَّةُ قَبْلَ الدَّيْنِ؟ " قَالَ: الْوَصِيَّةُ قَبْلَ الدَّيْنِ، قَالَ: " فَبِأَيِّهِمَا تَبْدَءُونَ؟ " قَالُوا: بِالدَّيْنِ، قَالَ: " فَهُوَ ذَلِكَ " قَالَ الشَّافِعِيُّ: يَعْنِي أَنَّ التَّقْدِيمَ جَائِزٌ.
حافظ ثناء اللہ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا گیا: آپ حج سے پہلے عمرہ کا حکم کیسے دیتے ہیں؟ اللہ تو فرماتے ہیں: ﴿وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ﴾ [سورة البقرة: 196] تو انہوں نے کہا: آپ قرض کو وصیت سے پہلے کیسے پڑھتے ہو؟ یا وصیت کو قرض سے پہلے، اس نے کہا: وصیت قرض سے پہلے ہے، ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: دونوں میں سے ابتدا کس سے کرتے ہو؟ انہوں نے کہا: قرض سے، ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ایسے ہی ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الوصايا / حدیث: 12564
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»