السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الوصايا— وصیت کا بیان۔
باب: من قال بنسخ الوصية للأقربين الذين لا يرثون وجوازها للأجنبيين باب: اس شخص کے قول کے بیان میں جس نے ان قریبی رشتہ داروں کے لیے وصیت کے منسوخ ہونے کا کہا جو وارث نہیں ہوتے اور اجنبیوں کے لیے اس کے جواز کا قول کیا
حدیث نمبر: 12545
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَامَ فَخَطَبَ النَّاسَ هَا هُنَا، يَعْنِي بِالْبَصْرَةِ، فَقَرَأَ عَلَيْهِمْ سُورَةَ الْبَقَرَةِ يُبَيِّنُ مَا فِيهَا، فَأَتَى عَلَى هَذِهِ الْآيَةِ {إِنْ تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ} [البقرة: ١٨٠]، فَقَالَ: " نُسِخَتْ هَذِهِ "، قَالَ: ثُمَّ ذَكَرَ مَا بَعْدَهُ.حافظ ثناء اللہ
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کھڑے ہو کر (بصرہ میں) لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے، انہوں نے سورہ بقرہ پڑھی اور اس میں جو تھا اسے واضح کیا، جب اس آیت ﴿إِنْ تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ﴾ [سورة البقرة: 180] پر پہنچے تو فرمایا: یہ آیت منسوخ ہوگئی، پھر اس کے بعد والی کا ذکر کیا۔