السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الوصايا— وصیت کا بیان۔
باب: نسخ الوصية للوالدين والأقربين الوارثين باب: والدین اور وارث ہونے والے قریبی رشتہ داروں کے حق میں وصیت کے منسوخ ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 12542
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " إِنَّ الْوَصِيَّةَ كَانَتْ قَبْلَ الْمِيرَاثِ، فَلَمَّا نَزَلَ الْمِيرَاثُ نَسَخَ مَنْ يَرِثُ وَبَقِيَتِ الْوَصِيَّةُ لِمَنْ لَا يَرِثُ، فَهِيَ ثَابِتَةٌ، فَمَنْ أَوْصَى لِغَيْرِ ذِي قَرَابَةٍ لَمْ تَجُزْ وَصِيَّتُهُ ".حافظ ثناء اللہ
طاؤس رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وصیت میراث سے پہلے تھی۔ جب وراثت کے احکام نازل ہوئے تو جو وارث بنا تھا وہ منسوخ ہو گیا اور جو وارث نہ تھا اس کے لیے وصیت باقی رہ گئی، وہ ثابت ہے۔ جس نے رشتہ دار کے علاوہ کسی اور کے لیے وصیت کی وہ جائز نہیں ہے۔