السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الوصايا— وصیت کا بیان۔
باب: نسخ الوصية للوالدين والأقربين الوارثين باب: والدین اور وارث ہونے والے قریبی رشتہ داروں کے حق میں وصیت کے منسوخ ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 12539
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنا أَبُو الْحُسَيْنِ عَبْدُ الْبَاقِي بْنُ قَانِعٍ الْقَاضِي، ثنا الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غُنْمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ فَقَالَ: " إِنَّ اللهَ قَسَمَ لِكُلِّ إِنْسَانٍ نَصِيبَهُ مِنَ الْمِيرَاثِ، فَلَا يَجُوزُ لِوَارِثٍ وَصِيَّةٌ " وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. وَرَوَاهُ أَيْضًا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ قَتَادَةَ وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ ضَعِيفٍ عَنْ عَمْرٍو.حافظ ثناء اللہ
عمرو بن خارجہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں منیٰ میں خطبہ دیا اور آپ ﷺ اپنی سواری پر تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے میراث سے ہر انسان کا حصہ تقسیم کر دیا ہے، پس وارث کے لیے وصیت جائز نہیں ہے۔“