أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، نا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا الشَّافِعِيُّ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، بِإِسْنَادٍ لَا يَحْضُرُنِي ذِكْرُهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا كَانَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ لَمْ يَحْمِلْ خَبَثًا " وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ بِقِلَالِ هَجَرَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: وَقَدْ رَأَيْتُ قِلَالَ هَجَرَ، فَالْقُلَّةُ تَسَعُ قِرْبَتَيْنِ أَوْ قِرْبَتَيْنِ وَشَيْئًا قَالَ الشَّافِعِيُّ: كَانَ مُسْلِمٌ يَذْهَبُ إِلَى أَنَّ ذَلِكَ أَقَلُّ مِنْ نِصْفِ الْقِرْبَةِ أَوْ نِصْفِ الْقِرْبَةِ، فَيَقُولُ: خَمْسُ قِرَبٍ هُوَ أَكْثَرُ مَا يَسَعُ قُلَّتَيْنِ وَقَدْ تَكُونُ الْقُلَّتَانِ أَقَلَّ مِنْ خَمْسِ قِرَبٍ قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَالِاحْتِيَاطُ أَنْ تَكُونَ الْقُلَّةُ قِرْبَتَيْنِ وَنِصْفًا فَإِذَا كَانَ الْمَاءُ خَمْسَ قِرَبٍ لَمْ يَحْمِلْ نَجِسًا فِي جِرٍّ كَانَ أَوْ غَيْرِهِ إِلَّا أَنْ يَظْهَرَ فِي الْمَاءِ مِنْهُ رِيحٌ أَوْ طَعْمٌ أَوْ لَوْنٌ، قَالَ: وَقِرَبُ الْحِجَازِ كِبَارٌ فَلَا يَكُونُ الْمَاءُ الَّذِي لَا يَحْمِلُ النَّجَاسَةُ إِلَّا بِقِرَبٍ كِبَارٍ.ابن جریج ایک سند سے نقل فرماتے ہیں: اس کا ذکر مجھے یاد نہیں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب پانی دو مٹکے ہو تو وہ گندگی کو نہیں اٹھاتا (یعنی ناپاک نہیں ہوتا)۔“
اور اس حدیث میں فرمایا: ”ہجر شہر کے مٹکوں کے حساب سے۔“ ابن جریج کہتے ہیں: میں نے ہجر شہر کے مٹکے دیکھے ہیں، ایک مٹکے میں دو مشکیزے یا دو مشکیزوں سے کچھ زیادہ پانی آتا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مسلم (بن خالد) کا خیال تھا کہ یہ زیادتی نصف مشکیزے سے کم یا نصف مشکیزہ ہے، چنانچہ وہ کہتے تھے: دو مٹکوں میں زیادہ سے زیادہ پانچ مشکیزے آتے ہیں اور کبھی دو مٹکے پانچ مشکیزوں سے کم بھی ہوتے ہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: احتیاط یہ ہے کہ ایک مٹکا اڑھائی مشکیزے کا شمار کیا جائے، لہٰذا جب پانی پانچ مشکیزے ہو تو وہ نجاست کو نہیں اٹھاتا، خواہ مٹکے میں ہو یا کسی اور جگہ، الا یہ کہ پانی میں اس کی بو، ذائقہ یا رنگ ظاہر ہو جائے۔ فرماتے ہیں: حجاز کے مشکیزے بڑے ہوتے ہیں، لہٰذا وہ پانی جو نجاست کو نہیں اٹھاتا وہ بڑے مشکیزوں ہی کے حساب سے ہو گا۔