السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الفرائض— وراثت کا بیان
باب: ميراث الحمل باب: حمل (پیٹ میں موجود بچے) کی وراثت کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ فِي الْأَوْسَاقِ الَّتِي نَحَلَهَا إِيَّاهَا: " فَلَوْ كُنْتِ جَدَدْتِيهِ أَوِ حُزْتِيهِ كَانَ لَكِ، وَإِنَّمَا هُوَ الْيَوْمَ مَالُ الْوَارِثِ، وَإِنَّمَا هُمْ أَخَوَاكِ وَأُخْتَاكِ؛ فَاقْتَسِمُوهُ عَلَى كِتَابِ اللهِ "، فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: وَاللهِ يَا أَبَتِ لَوْ كَانَ كَذَا وَكَذَا لَتَرَكْتُهُ، إِنَّمَا هِيَ أَسْمَاءُ، فَمَنِ الْأُخْرَى؟ قَالَ: " ذُو بَطْنِ بِنْتِ خَارِجَةَ، أُرَاهَا جَارِيَةً ".نبی ﷺ کی زوجہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان وسقوں کے بارے میں (جو انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو دیے تھے) فرمایا: ”اگر تو نے انہیں کاٹ لیا ہے اور قبضہ میں لے لیا ہے تو وہ تیرے ہیں، ورنہ وہ آج سے وارث کا مال ہے اور وہ تیرے دو بھائی اور دو بہنیں ہیں، اللہ کی کتاب کے مطابق تقسیم کرلینا۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”اللہ کی قسم! اے ابا جان! اگر ایسی بات ہے تو میں چھوڑ دیتی ہوں، ایک اسماء رضی اللہ عنہا بہن ہے، دوسری کون ہے؟“ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”خارجہ کی بیٹی کے پیٹ میں میرے خیال میں لڑکی ہے۔“