حدیث نمبر: 12459
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَمْرُو بْنُ قِسْطٍ الرَّقِّيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْبَرَاءِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: لَقِيتُ عَمِّي وَمَعَهُ رَايَةٌ فَقُلْتُ: أَيْنَ تُرِيدُ؟ قَالَ: " بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَجُلٍ نَكَحَ امْرَأَةَ أَبِيهِ فَأَمَرَنِي أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَهُ وَآخُذَ مَالَهُ " لَفْظُ حَدِيثِ الرُّوذْبَارِيِّ، وَقَدْ حَمَلَ هَذَا بَعْضُ أَصْحَابِنَا عَلَى أَنَّهُ نَكَحَهَا مُعْتَقِدًا لِإِبَاحَتِهِ، فَصَارَ بِهِ مُرْتَدًّا وَجَبَ قَتْلُهُ وَأَخْذُ مَالِهِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ رُوِيَ أَنَّ مُعَاوِيَةَ كَتَبَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ يَسْأَلُهُمَا عَنْ مِيرَاثِ الْمُرْتَدِّ، فَقَالَا: لِبَيْتِ الْمَالِ، قَالَ الشَّافِعِيُّ: يَعْنِيَانِ أَنَّهُ فَيْءٌ.
حافظ ثناء اللہ

یزید بن براء اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ مجھے میرے چچا ملے اور ان کے پاس تلوار تھی، میں نے کہا: کہاں کا ارادہ ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے رسول اللہ ﷺ نے ایسے آدمی کی طرف بھیجا ہے کہ اس نے اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کر لیا ہے، کہ ”میں اس کو قتل کر دوں اور اس کا مال لے لوں۔“
اور ہمارے بعض اصحاب نے اسے اس پر محمول کیا ہے کہ اس نے اس عورت سے اس کو مباح سمجھ کر نکاح کیا تھا، پس وہ مرتد ہو گیا، اس کا قتل واجب تھا اور اس کا مال قبضے میں لے لیا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ بیان کیا گیا ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف لکھا اور مرتد کی میراث کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے کہا: ”بیت المال کے لیے ہے۔“ امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: دونوں کی مراد تھی کہ وہ فئی ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الفرائض / حدیث: 12459
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»