السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الفرائض— وراثت کا بیان
باب: الاختلاف في مسألة الخرقاء باب: مسئلہ خرقاء میں اختلاف کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ الرَّقِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ثنا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى، ثنا الشَّعْبِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ مُوسَى، عَنِ الشَّعْبِيِّ أَنَّهُ أَتَى بِهِ الْحَجَّاجُ مُوثَقًا، فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى بَابِ الْقَصْرِ قَالَ: لَقِيَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي مُسْلِمٍ فَقَالَ: إِنَّا لِلَّهِ يَا شَعْبِيُّ لِمَا بَيْنَ دَفَّتَيْكَ مِنَ الْعِلْمِ، وَلَيْسَ بِيَوْمِ شَفَاعَةٍ بُؤْ لِلْأَمِيرِ بِالشِّرْكِ وَالنِّفَاقِ ⦗٤١٣⦘ عَلَى نَفْسِكَ، فَبِالْحَرِيِّ أَنْ تَنْجُوَ ثُمَّ لَقِيَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْحَجَّاجِ فَقَالَ لِي مِثْلَ مَقَالَةِ يَزِيدَ، فَلَمَّا دَخَلْتُ عَلَى الْحَجَّاجِ قَالَ: وَأَنْتَ يَا شَعْبِيُّ مِمَّنْ خَرَجَ عَلَيْنَا وَكَثُرَ، فَقُلْتُ: " أَصْلَحَ اللهُ الْأَمِيرَ، أَحْزَنَ بِنَا الْمَنْزِلُ، وَأَجْدَبَ الْجَنَابُ، وَضَاقَ الْمَسْلَكُ، وَاكْتَحَلْنَا السَّهَرَ، وَاسْتَحْلَسْنَا الْخَوْفَ، وَوَقَعْنَا فِي خِزْيَةٍ، لَمْ نَكُنْ فِيهَا بَرَرَةً أَتْقِيَاءَ، وَلَا فَجَرَةً أَقْوِيَاءَ "، قَالَ: صَدَقْتَ وَاللهِ، مَا بَرُّوا بِخُرُوجِهِمْ عَلَيْنَا، وَلَا قَوَوْا عَلَيْنَا حَيْثُ فَجَرُوا، أَطْلَقْنَا عَنْهُ. ثُمَّ احْتَاجَ إِلِيَّ فِي فَرِيضَةٍ فَأَتَيْتُهُ، فَقَالَ: مَا تَقُولُ فِي أُمٍّ وَأُخْتٍ وَجَدٍّ؟ فَقُلْتُ: " قَدِ اخْتَلَفَ فِيهَا خَمْسَةٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ، وَزَيْدٌ، وَعُثْمَانُ، وَعَلِيٌّ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: مَا قَالَ فِيهَا ابْنُ عَبَّاسٍ، إِنْ كَانَ لَمُتْقِنًا؟ وَفِي رِوَايَةِ الرَّقِّيِّ: إِنْ كَانَ لَمُنَقِّبًا، قُلْتُ: " جَعَلَ الْجَدَّ أَبًا، وَلَمْ يُعْطِ الْأُخْتَ شَيْئًا، وَأَعْطَى الْأُمَّ الثُّلُثَ "، قَالَ: فَمَا قَالَ فِيهَا زَيْدٌ؟ قُلْتُ: " جَعَلَهَا مِنْ تِسْعَةٍ؛ أَعْطَى الْأُمَّ ثَلَاثَةً، وَأَعْطَى الْجَدَّ أَرْبَعَةً، وَأَعْطَى الْأُخْتَ سَهْمَيْنِ "، قَالَ: فَمَا قَالَ فِيهَا أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ؟ يَعْنِي عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قُلْتُ: " جَعَلَهَا أَثْلَاثًا "، قَالَ: فَمَا قَالَ فِيهَا ابْنُ مَسْعُودٍ؟ قُلْتُ: " جَعَلَهَا مِنْ سِتَّةٍ، أَعْطَى الْأُخْتَ ثَلَاثَةً، وَالْجَدَّ سَهْمَيْنِ، وَالْأُمَّ سَهْمًا "، قَالَ: فَمَا قَالَ فِيهَا أَبُو تُرَابٍ؟ يَعْنِي عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قُلْتُ: " جَعَلَهَا مِنْ سِتَّةِ أَسْهُمٍ، فَأَعْطَى الْأُخْتَ ثَلَاثَةً، وَأَعْطَى الْأُمَّ سَهْمَيْنِ، وَأَعْطَى الْجَدَّ سَهْمًا "، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ..حضرت شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انھیں بیڑیوں میں جکڑ کر حجاج بن یوسف کے پاس لایا گیا، جب وہ محل کے دروازے کے پاس پہنچے تو کہتے ہیں کہ مجھے یزید بن ابو مسلم ملے تو انھوں نے کہا: «إِنَّا لِلّٰہِ» ”بے شک ہم اللہ ہی کے لیے ہیں“ اے شعبی! تو علم کا پہاڑ ہے اور آج تیرا کوئی سفارشی نہیں، تو اپنے خلاف شرک اور نفاق کا اقرار کرتے ہوئے امیر سے پناہ مانگ تو تو آزادی سے ہم کنار ہوگا، پھر مجھے محمد بن حجاج ملے اور یزید بن ابو مسلم جیسی بات کی، جب میں حجاج کے پاس پہنچا تو اس نے کہا: اے شعبی! آپ ان لوگوں میں سے ہو جنہوں نے بڑی شد و مد کے ساتھ ہمارے خلاف خروج کیا ہے تو میں نے کہا: اللہ تعالیٰ امیر کی اصلاح فرمائے، ہمیں ناپسندیدہ جگہ پر لائے، جہاں مشکلات ہیں، راستہ تنگ ہو گیا ہے، نیند چھین لی گئی اور ہم مسلسل خوف و ہراس میں ہیں اور ہم ایسی رسوائی میں واقع ہو چکے ہیں کہ جہاں نیکوکار متقی نہیں بن سکتے اور فاجر قوی نہیں ہو سکتے تو حجاج نے کہا: تو نے سچ کہا، اللہ کی قسم! وہ ہم پر بغاوت کر کے نیکوکار نہیں بن گئے اور نہ وہ فاجر بن کر ہم پر قوی ہوئے۔ وہ دونوں بزرگ چلے گئے، پھر اسے (حجاج کو) علم میراث کے مسئلے میں میری ضرورت پڑی تو میں آیا، اس نے کہا: تو ماں، بہن اور دادا کے (حصوں کے) متعلق کیا کہتا ہے؟ میں نے کہا: اس میں پانچ اصحابِ رسول ﷺ کا اختلاف ہے اور وہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، زید رضی اللہ عنہ، عثمان رضی اللہ عنہ، علی رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں۔ اگر وہ (اصحاب الفرائض) جماعت ہیں تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: دادا باپ کے قائم مقام (باپ والے حصے) ماں کو تین، دادا کو چار اور بہن کو دو حصے دیے ہیں۔ اس نے کہا: امیرالمومنین عثمان رضی اللہ عنہ کیا کہتے ہیں؟ میں نے کہا: انھوں نے (تینوں کو) تین حصے دیے ہیں اس نے کہا: ابن مسعود اس کے متعلق کیا کہتے ہیں؟ میں نے کہا: انھوں نے چھ حصے کیے بہن کو تین، دادا کو دو اور ماں کو ایک حصہ، اس نے کہا: اس مسئلہ کے متعلق ابوتراب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا کیا موقف ہے؟ میں نے کہا: انھوں نے جو حصے کیے، بہن کو تین، ماں کو دو، دادا کو ایک حصہ دیا لمبی حدیث ہے۔