حدیث نمبر: 12448
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ علي الْحَافِظِ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، أنا جَرِيرٌ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ أَصْحَابِ إِبْرَاهِيمَ وَالشَّعْبِيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ وَالشَّعْبِيِّ: أُخْتٌ لِأَبٍ وَأُمٍّ وَأُخْتٍ لِأَبٍ وَجَدٌّ فِي قَوْلِ عَلِيٍّ وَعَبْدِ اللهِ: " لِلْأُخْتِ مِنَ الْأَبِ وَالْأُمِّ النِّصْفُ، وَلِلْأُخْتِ مِنَ الْأَبِ السُّدُسُ تَكْمِلَةَ الثُّلُثَيْنِ، وَمَا بَقِيَ لِلْجَدِّ "، وَفِي قَوْلِ زَيْدٍ: " لِلْأُخْتَيْنِ النِّصْفُ، وَلِلْجَدِّ النِّصْفُ، وَتَرُدُّ الْأُخْتُ مِنَ الْأَبِ نَصِيبَهَا عَلَى الْأُخْتِ مِنَ الْأَبِ وَالْأُمِّ ". أُخْتٌ لِأَبٍ وَأُمٍّ وَأُخْتَانِ لِأَبٍ وَجَدٌّ فِي قَوْلِ عَلِيٍّ وَعَبْدِ اللهِ: " لِلْأُخْتِ مِنَ الْأَبِ وَالْأُمِ النِّصْفُ، وَلِلْأُخْتَيْنِ مِنَ الْأَبِ السُّدُسُ تَكْمِلَةَ الثُّلُثَيْنِ، وَمَا بَقِيَ لِلْجَدِّ، وَإِنْ كُنَّ أَخَوَاتٍ مِنَ الْأَبِ أَكْثَرَ مِنِ اثْنَتَيْنِ لَمْ يَزِدْنَ عَلَى هَذَا "، وَفِي قَوْلِ زَيْدٍ: " لِلْجَدِّ خُمْسَانِ، وَلِلْأَخَوَاتِ سَهْمٌ سَهْمٌ مِنْ خَمْسَةٍ، ثُمَّ تَرُدُّ الْأُخْتَانِ مِنَ الْأَبِ عَلَى الْأُخْتِ مِنَ الْأَبِ وَالْأُمِّ حَتَّى تَسْتَكْمِلَ النِّصْفَ، وَلَهُمَا فَضْلٌ، فَإِنْ كُنَّ ثَلَاثَ أَخَوَاتٍ أَوْ أَرْبَعَ أَخَوَاتٍ لِأَبٍ مَعَ أُخْتٍ لِأَبٍ وَأُمٍّ وَجَدٌّ لَمْ يُنْقَصِ الْجَدُّ مِنَ الثُّلُثِ شَيْئًا، وَكَانَ لِلْأُخْتِ مِنَ الْأَبِ وَالْأُمِّ النِّصْفُ، وَمَا بَقِيَ بَيْنَ الْأَخَوَاتِ لِلْأَبِ ". أُخْتٌ لِأَبٍ وَأُمٍّ وَأَخٌ لِأَبٍ وَجَدٌّ فِي قَوْلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " لِلْأُخْتِ مِنَ الْأَبِ وَالْأُمِّ النِّصْفُ، وَمَا بَقِيَ بَيْنَ الْأَخِ وَالْجَدِّ نِصْفَانِ، ⦗٤١٢⦘ وَفِي قَوْلِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " لِلْجَدِّ النِّصْفُ، وَلِلْأُخْتِ مِنَ الْأَبِ وَالْأُمِّ النِّصْفُ، وَيُلْغَى الْأَخُ مِنَ الْأَبِ وَلَا يَجْعَلُ لَهُ شَيْئًا "، وَفِي قَوْلِ زَيْدٍ " مِنْ عَشَرَةِ أَسْهُمٍ؛ أَرْبَعَةُ أَسْهُمٍ لِلْجَدِّ، وَأَرْبَعَةٌ لِلْأَخِ، وَسَهْمَانِ لِلْأُخْتِ، ثُمَّ يَرُدُّ الْأَخُ عَلَى الْأُخْتِ ثَلَاثَةَ أَسْهُمٍ فَتَسْتَكْمِلُ النِّصْفَ، وَيَبْقَى لَهُ سَهْمٌ ". أُخْتٌ لِأَبٍ وَأُمٍّ وَأَخٌ لِأَبٍ وَأُخْتٌ لِأَبٍ وَجَدٌّ فِي قَوْلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " لِلْأُخْتِ مِنَ الْأَبِ وَالْأُمِّ النِّصْفُ، وَمَا بَقِيَ بَيْنَ الْجَدِّ وَالْأَخِ وَالْأُخْتِ أَخْمَاسًا فِي الْقِسْمَةِ "، وَفِي قَوْلِ عَبْدِ اللهِ: " لِلْأُخْتِ مِنَ الْأَبِ وَالْأُمِّ النِّصْفُ، وَمَا بَقِيَ لِلْجَدِّ لَيْسَ لِلْأُخْتِ وَالْأَخِ مِنَ الْأَبِ شَيْءٌ "، وَفِي قَوْلِ زَيْدٍ " مِنْ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ سَهْمًا؛ لِلْجَدِّ الثُّلُثُ سِتَّةُ أَسْهُمٍ، وَلِلْأَخِ سِتَّةٌ، وَلِلْأُخْتَيْنِ سِتَّةٌ، لِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا ثَلَاثَةٌ، ثُمَّ يَرُدُّ الْأَخُ وَالْأُخْتُ مِنَ الْأَبِ عَلَى الْأُخْتِ مِنَ الْأَبِ وَالْأُمِّ حَتَّى تَسْتَكْمِلَ النِّصْفَ تِسْعَةَ أَسْهُمٍ، وَيَبْقَى بَيْنَهُمَا ثَلَاثَةُ أَسْهُمٍ ". أُخْتَانِ لِأَبٍ وَأُمٍّ وَأَخٌ لِأَبٍ وَجَدٌّ فِي قَوْلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " لِلْأُخْتَيْنِ الثُّلُثَانِ، وَمَا بَقِيَ بَيْنَ الْأَخِ وَالْجَدِّ نِصْفَانِ "، وَفِي قَوْلِ عَبْدِ اللهِ: " لِلْأُخْتَيْنِ مِنَ الْأَبِ وَالْأُمِّ الثُّلُثَانِ، وَمَا بَقِيَ لِلْجَدِّ، وَيُطْرَحُ الْأَخُ "، وَفِي قَوْلِ زَيْدٍ: " مِنْ ثَلَاثَةِ أَسْهُمٍ؛ لِلْجَدِّ سَهْمٌ، وَلِلْأُخْتَيْنِ سَهْمٌ، وَلِلْأَخِ سَهْمٌ، ثُمَّ يَرُدُّ الْأَخُ سَهْمَهُ عَلَى الْأُخْتَيْنِ فَاسْتَكْمَلَتَا الثُّلُثَيْنِ، وَلَمْ يَبْقَ لَهُ شَيْءٌ ". أُخْتَانِ لِأَبٍ وَأُمٍّ وَأُخْتٌ لِأَبٍ وَجَدٌّ فِي قَوْلِ عَلِيٍّ وَعَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا جَمِيعًا: " لِلْأُخْتَيْنِ مِنَ الْأَبِ وَالْأُمِّ الثُّلُثَانِ، وَلِلْجَدِّ مَا بَقِيَ، وَسَقَطَتِ الْأُخْتُ مِنَ الْأَبِ "، وَفِي قَوْلِ زَيْدٍ " مِنْ عَشَرَةِ أَسْهُمٍ: لِلْجَدِّ أَرْبَعَةُ أَسْهُمٍ، وَلِلْأَخَوَاتِ سَهْمَانِ سَهْمَانِ، ثُمَّ تَرُدُّ الْأُخْتُ مِنَ الْأَبِ عَلَيْهِمَا سَهْمَيْنِ وَلَمْ يَبْقَ لَهَا شَيْءٌ قَاسَمَتَا بِهَا وَلَمْ تَرِثَ شَيْئًا ". أُخْتَانِ لِأَبٍ وَأُمٍّ وَأخٌ وَأُخْتٌ لِأَبٍ وَجَدٌّ فِي قَوْلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " لِلْأُخْتَيْنِ مِنَ الْأَبِ وَالْأُمِّ الثُّلُثَانِ، وَلِلْجَدِّ السُّدُسُ، وَمَا بَقِيَ بَيْنَ الْأَخِ وَالْأُخْتِ {لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ} [النساء: ١١] "، وَفِي قَوْلِ عَبْدِ اللهِ: " لِلْأُخْتَيْنِ الثُّلُثَانِ، وَمَا بَقِيَ لِلْجَدِّ، وَيَسْقُطُ الْأَخُ وَالْأُخْتُ مِنَ الْأَبِ "، وَفِي قَوْلِ زَيْدٍ مِنْ ثَلَاثَةٍ: " لِلْجَدِّ الثُّلُثُ، وَهُوَ سَهْمٌ، وَسَهْمَانِ لِلْأُخْتَيْنِ مِنَ الْأَبِ وَالْأُمِّ، قَاسَمَتَا بِهِمَا وَلَمْ يَرِثَا شَيْئًا ".
حافظ ثناء اللہ

ابراہیم اور شعبی سے منقول ہے کہ حقیقی بہن، علاتی بہن اور جد (دادا) کے لیے حضرت علی اور عبداللہ رضی اللہ عنہما کے قول کے مطابق حقیقی بہن کے لیے نصف، علاتی بہن کے لیے سدس (دو تہائی کو مکمل کرنے والا) اور باقی جد کے لیے ہے اور حضرت زید رضی اللہ عنہ کے قول کے مطابق دو بہنوں کے لیے نصف اور جد کے لیے بھی نصف اور علاتی بہن کا حصہ حقیقی بہن پر لوٹایا جائے گا۔
حقیقی بہن اور دو علاتی بہنیں اور جد، حضرت علی اور عبداللہ رضی اللہ عنہما کے قول میں حقیقی بہن کے لیے نصف، علاتی بہنوں کے لیے سدس (دو تہائی مکمل کرنے والا) اور باقی جد کے لیے ہے۔ اگر علاتی بہنیں دو سے زیادہ ہوں تو ان کو اس سے زیادہ نہ دیا جائے گا اور حضرت زید رضی اللہ عنہ کے قول کے مطابق جد کے لیے دو خمس اور بہنوں کے لیے ایک ایک حصہ پانچ میں سے، پھر دو علاتی بہنوں کو حقیقی بہن پر لوٹایا جائے گا یہاں تک کہ نصف مکمل ہو جائے اور ان دونوں کے لیے زائد ہوگا، اگر علاتی بہنیں تین یا چار ہوں حقیقی بہن اور جد کے ساتھ تو جد کے حصے کو ثلث سے کم نہیں کیا جائے گا اور حقیقی بہن کے لیے نصف ہوگا اور باقی علاتی بہنوں میں تقسیم ہوگا۔ حقیقی بہن اور علاتی بھائی اور جد، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قول کے مطابق حقیقی بہن کے لیے نصف اور باقی نصف بھائی اور جد کے درمیان تقسیم ہوگا، اور حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے قول کے مطابق جد کے لیے نصف اور حقیقی بہن کے لیے نصف اور بھائی کے لیے ہم کچھ نہیں رکھتے، اور حضرت زید رضی اللہ عنہ کے قول میں دس حصوں میں سے چار جد کے لیے اور چار بھائی کے لیے اور دو حصے بہن کے لیے، پھر بھائی، بہن پر تین حصے لوٹائے گا، پس نصف مکمل ہو جائے گا اور باقی ایک حصہ اس کا ہوگا۔ حقیقی بہن، علاتی بھائی، علاتی بہن اور جد، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قول کے مطابق حقیقی بہن کے لیے نصف اور باقی ماندہ جد، بہن اور بھائی کے درمیان تقسیم ہوگا اور حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے قول کے مطابق حقیقی بہن کے لیے نصف اور باقی جد کے لیے اور علاتی بھائی بہن کے لیے کچھ نہیں ہے، اور حضرت زید رضی اللہ عنہ کے قول کے مطابق اٹھارہ حصوں میں سے جد کے لیے چھ حصے (ثلث) اور بھائی کے لیے چھ حصے اور دونوں بہنوں میں سے ہر ایک کے لیے تین تین، پھر علاتی بھائی بہن حقیقی بہن پر لوٹائیں گے یہاں تک کہ نصف یعنی نو حصے مکمل ہو جائیں اور ان دونوں کے لیے باقی ماندہ تین حصے ہوں گے۔
دو حقیقی بہنیں، ایک علاتی بھائی اور جد، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قول میں دو بہنوں کے لیے دو تہائی اور باقی آدھا آدھا بھائی اور جد کے درمیان اور حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے قول میں دو بہنوں کے لیے دو تہائی اور باقی جد کے لیے اور بھائی کے لیے کچھ نہیں ہے اور حضرت زید رضی اللہ عنہ کے قول میں تین حصوں میں سے جد کے لیے ایک حصہ اور دو بہنوں کے لیے ایک حصہ اور بھائی کے لیے ایک حصہ، پھر بھائی اپنا حصہ بہنوں پر لوٹائے گا پس دو تہائی پورا ہوگا اور اس کے لیے باقی کچھ نہ ہوگا۔
دو حقیقی بہنیں، ایک علاتی بہن اور جد، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قول کے مطابق دو بہنوں کے لیے دو تہائی اور جد کے لیے باقی ماندہ اور علاتی بہن ساقط ہوگی اور حضرت زید رضی اللہ عنہ کے قول میں دس حصوں میں سے چار حصے جد کے لیے اور بہنوں کے لیے دو دو حصے، پھر علاتی بہن کے دو حصوں کو بھی حقیقی بہنوں پر لوٹایا جائے گا اور اس کے لیے باقی کچھ نہ ہوگا وہ دونوں تقسیم کر لیں گی اور علاتی بہن وارث نہ بنے گی۔
دو حقیقی بہنیں، ایک علاتی بھائی اور ایک علاتی بہن اور جد، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قول میں دو حقیقی بہنوں کے لیے دو تہائی اور جد کے لیے سدس اور باقی بھائی اور بہن کے درمیان ﴿لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ﴾ [سورة النساء: 11] کے تحت تقسیم ہوگا، اور حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے قول کے مطابق دو بہنوں کے لیے دو تہائی اور باقی جد کے لیے اور علاتی بھائی بہن ساقط ہوں گے اور حضرت زید رضی اللہ عنہ کے قول میں تین میں سے جد کے لیے ثلث اور وہ ایک حصہ ہے اور دو حصے دو حقیقی بہنوں کے لیے وہ دونوں اس کو تقسیم کر لیں گی اور وہ دونوں (بہن بھائی) وارث نہیں بنیں گے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الفرائض / حدیث: 12448
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»