السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الفرائض— وراثت کا بیان
باب: كيفية المقاسمة بين الجد والإخوة والأخوات باب: دادا اور بھائیوں بہنوں کے درمیان تقسیم کی کیفیت کے بیان میں
حدیث نمبر: 12444
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، فِي ابْنَةٍ وَأُخْتٍ وَجَدٍّ، قَالَ: " مِنْ أَرْبَعَةٍ؛ لِلِابْنَةِ النِّصْفُ سَهْمَانِ، وَلِلْجَدِّ سَهْمٌ، وَلِلْأُخْتِ سَهْمٌ، وَإِنْ كَانَتَا أُخْتَيْنِ فَمِنْ ثَمَانِيَةٍ؛ لِلِابْنَةِ النِّصْفُ أَرْبَعَةٌ، وَلِلْجَدِّ سَهْمَانِ، وَلِلْأُخْتَيْنِ سَهْمٌ سَهْمٌ، فَإِنْ كَانَتْ ثَلَاثُ أَخَوَاتٍ فَمِنْ عَشَرَةٍ؛ لِلِابْنَةِ النِّصْفُ خَمْسَةٌ، وَلِلْجَدِّ سَهْمَانِ، وَهُوَ خُمُسُ مَا بَقِيَ، وَلِلْأَخَوَاتِ سَهْمٌ سَهْمٌ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیٹی، بہن اور دادا کے بارے میں کہا: چار حصے ہوں گے، یعنی نصف یعنی دو حصے بیٹی کے لیے، دادا کے لیے ایک حصہ اور بہن کے لیے بھی ایک حصہ۔ اگر دو بہنیں ہوں تو آٹھ حصوں سے: بیٹی کے لیے نصف، یعنی چار حصے اور دادا کے لیے دو حصے اور دو بہنوں کے لیے ایک ایک حصہ ہوگا۔ اگر تین بہنیں ہوں تو دس حصوں سے: بیٹی کے لیے نصف، یعنی پانچ، دادا کے لیے دو حصے اور باقی تین حصے تینوں بہنوں کے لیے ایک ایک۔