السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الفرائض— وراثت کا بیان
باب: كيفية المقاسمة بين الجد والإخوة والأخوات باب: دادا اور بھائیوں بہنوں کے درمیان تقسیم کی کیفیت کے بیان میں
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ، أنا إِبْرَاهِيمُ، أنا إِسْمَاعِيلُ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللهِ " يُشْرِكُ الْجَدَّ مَعَ الْإِخْوَةِ إِلَى الثُّلُثِ، فَإِنْ كَانَ الثُّلُثُ خَيْرًا لَهُ مِنَ الْمُقَاسَمَةِ أَعْطَاهُ الثُّلُثَ، وَيُعْطِي كُلَّ صَاحِبِ فَرِيضَةٍ فَرِيضَتَهُ، وَلَا يُوَرِّثُ أَخًا لِأُمٍّ وَلَا أُخْتًا لِأُمٍّ مَعَ الْجَدِّ، وَلَا يُقَاسِمُ بِأَخٍ لِأَبٍ أَخًا لِأَبٍ وَأُمٍّ، وَلَا يُوَرِّثُ ابْنَ الْأَخِ مَعَ الْجَدِّ، وَإِذَا كَانَتْ أُخْتٌ لِأَبٍ وَأُمٍّ وَأَخٌ لِأَبٍ وَجَدٍّ أَعْطَى الْأُخْتَ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ النِّصْفَ، وَأَعْطَى الْجَدَّ النِّصْفَ، وَلَا يُعْطِي الْأَخَ شَيْئًا، وَإِذَا كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ وَأَخَوَاتٌ وَجَدٌّ وَمَنْ لَهُ مَعَهُمْ فَرِيضَةٌ أَعْطَى كُلَّ صَاحِبِ فَرِيضَةٍ فَرِيضَتَهُ، فَإِنْ كَانَ ثُلُثُ مَا يَبْقَى خَيْرًا لَهُ مِنَ الْمُقَاسَمَةِ أَعْطَاهُ ثُلُثَ مَا بَقِيَ، وَإِنْ كَانَتِ الْمُقَاسَمَةُ خَيْرًا لَهُ قَاسَمَ، وَإِنْ كَانَ سُدُسُ جَمِيعِ الْمَالِ خَيْرًا لَهُ مِنَ الْمُقَاسَمَةِ أَعْطَاهُ السُّدُسَ، وَإِنْ كَانَتِ الْمُقَاسَمَةُ خَيْرًا لَهُ مِنْ سُدُسِ جَمِيعِ الْمَالِ قَاسَمَ ".ابراہیم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ دادے کو بھائیوں کے ساتھ «الثُّلُثُ» ”تہائی“ تک شریک کرتے تھے۔ اگر اس کے لیے «الثُّلُثُ» ”تہائی“ بہتر ہوتا تو اس کو «الثُّلُثُ» ”تہائی“ دے دیتے اور ہر حصہ دار کو اس کا حصہ دے دیتے تھے اور اخیافی بھائی بہن کو دادے کے ساتھ وارث نہ بناتے تھے اور نہ علاتی بھائی کے لیے حقیقی بھائی کے ساتھ تقسیم کرتے تھے اور نہ ہی بھتیجے کو دادے کے ساتھ وارث بناتے تھے اور جب حقیقی بہن، علاتی بھائی اور دادا ہوتا تو حقیقی بہن کو نصف اور دادے کو نصف دیتے اور بھائی کو کچھ نہ دیتے تھے اور جب بھائی، بہن اور دادا ہوتے تو ہر حصہ دار کو اس کا حصہ دیتے اور اگر باقی ماندہ «الثُّلُثُ» ”تہائی“ ہوتا اور اس کے لیے تقسیم سے بہتر ہوتا تو اس کو باقی ماندہ کا «الثُّلُثُ» ”تہائی“ دے دیتے تھے اور اگر اس کے لیے تقسیم بہتر ہوتی تو تقسیم کر دیتے تھے۔ اگر مکمل مال سے «السُّدُسُ» ”چھٹا حصہ“ تقسیم سے بہتر ہوتا تو اس کو «السُّدُسُ» ”چھٹا حصہ“ دیتے تھے۔ اگر اس کے لیے «السُّدُسُ» ”چھٹا حصہ“ سے تقسیم بہتر ہوتی تو تقسیم کر دیتے تھے۔