السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: الفرق بين القليل الذي ينجس والكثير الذي لا ينجس ما لم يتغير باب: اس تھوڑے پانی جو نجس ہو جاتا ہے اور اس زیادہ پانی جو نجس نہیں ہوتا جب تک کہ تبدیل نہ ہو، کے درمیان فرق کا بیان
حدیث نمبر: 1244
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ قَالَا: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ، وَهُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ الْمُنْذِرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ بُسْتَانًا فِيهِ مَقَرُّ مَاءٍ فِيهِ جِلْدُ بَعِيرٍ مَيِّتٍ فَتَوَضَّأَ مِنْهُ فَقُلْتُ: أَيَتَوَضَّأُ مِنْهُ وَفِيهِ جَلْدُ بَعِيرٍ مَيِّتٍ؟ فَحَدَّثَنِي عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا بَلَغَ الْمَاءُ قَدْرَ قُلَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثٍ لَمْ يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ " كَذَا قَالَا: أَوْ ثَلَاثٍ، وَكَذَلِكَ قَالَهُ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ وَكَاملُ بْنُ طَلْحَةَ، وَرِوَايَةُ الْجَمَاعَةِ الَّذِينَ لَمْ يَشُكُّوا أَوْلَى.حافظ ثناء اللہ
عاصم بن منذر بن زبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں عبید اللہ بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ باغ میں داخل ہوا، اس میں پانی کا مٹکا تھا، جو مردہ اونٹ کے چمڑے کا بنا ہوا تھا۔ انہوں نے اس سے وضو کیا، میں نے کہا: کیا آپ اس سے وضو کریں گے؟ اس میں مردہ اونٹ کا چمڑا ہے؟ انہوں نے اپنے والد سے مجھ کو حدیث بیان کی کہ ان کے والد نے نبی ﷺ سے روایت بیان کی کہ ”جب پانی دو یا تین مٹکوں کی مقدار کے برابر ہو تو اس کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔“