السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الفرائض— وراثت کا بیان
باب: كيفية المقاسمة بين الجد والإخوة والأخوات باب: دادا اور بھائیوں بہنوں کے درمیان تقسیم کی کیفیت کے بیان میں
حدیث نمبر: 12437
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نَضْلَةَ قَالَ: كَانَ عُمَرُ وَعَبْدُ اللهِ يُقَاسِمَانِ بِالْجَدِّ مَعَ الْإِخْوَةِ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَنْ يَكُونَ السُّدُسُ خَيْرًا لَهُ مِنْ مُقَاسَمَتِهِمْ، ثُمَّ إِنَّ عُمَرَ كَتَبَ إِلَى عَبْدِ اللهِ: " مَا أُرَانَا إِلَّا قَدْ أَجْحَفْنَا بِالْجَدِّ، فَإِذَا جَاءَكَ كِتَابِي هَذَا فَقَاسِمْ بِهِ مَعَ الْإِخْوَةِ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَنْ يَكُونَ الثُّلُثُ خَيْرًا لَهُ مِنْ مُقَاسَمَتِهِمْ "، فَأَخَذَ بِذَلِكَ عَبْدُ اللهِ.حافظ ثناء اللہ
عبیدہ بن نفیلہ فرماتے ہیں کہ عمر اور عبداللہ رضی اللہ عنہما دونوں دادے کے لیے بھائیوں کے ساتھ «السُّدُسُ» ”چھٹا حصہ“ بہتر سمجھتے تھے، پھر عمر رضی اللہ عنہ نے عبداللہ کی طرف لکھا کہ ہم نے «مُقَاسَمَةُ الْجَدِّ» ”دادا کی تقسیم“ میں اپنی رائے (کے ساتھ تقسیم میں) زیادتی کی ہے، یعنی نقصان پہنچایا ہے، جب تیرے پاس میرا خط آئے تو ان کے درمیان «الثُّلُثُ» ”تہائی حصہ“ کی تقسیم رکھنا، یہ بہتر تقسیم ہے، پس عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اسی پر عمل کیا۔