السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الفرائض— وراثت کا بیان
باب: كيفية المقاسمة بين الجد والإخوة والأخوات باب: دادا اور بھائیوں بہنوں کے درمیان تقسیم کی کیفیت کے بیان میں
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنْ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَتَبَ إِلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ يَسْأَلُهُ عَنِ الْجَدِّ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: " إِنَّكَ كَتَبْتَ إِلِيَّ تَسْأَلُنِي عَنِ الْجَدِّ وَاللهُ أَعْلَمُ، وَذَلِكَ مَا لَمْ يَكُنْ يَقْضِي فِيهِ إِلَّا الْأُمَرَاءُ، يَعْنِي الْخُلَفَاءَ، وَقَدْ حَضَرْتُ الْخَلِيفَتَيْنِ قَبْلَكَ يُعْطِيَانِهِ النِّصْفَ مَعَ الْأَخِ الْوَاحِدِ، وَالثُّلُثَ مَعَ الِاثْنَيْنِ، فَإِنْ كَثُرَ الْإِخْوَةُ لَمْ يُنْقِصَاهُ مِنَ الثُّلُثِ ".حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو خط لکھا اور دادے کے بارے میں سوال کیا۔ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ آپ نے مجھ سے دادے کے بارے میں سوال کیا ہے، «اللهُ أَعْلَمُ» ”اللہ بہتر جانتے ہیں“ اور اس مسئلہ میں خلفاء فیصلہ کرتے تھے، میں آپ سے پہلے دو خلفاء کے پاس گیا ہوں، وہ دونوں دادے کو ایک بھائی کے ساتھ نصف دیتے تھے اور دو بھائیوں کے ساتھ ثلث دیتے تھے، اگر بھائی زیادہ ہوتے تو ثلث سے کم نہ کرتے تھے۔
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حضرت عمر بن خطاب، حضرت عثمان بن عفان اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہم دادے کو بھائیوں کے ساتھ ثلث دیتے تھے۔