السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الفرائض— وراثت کا بیان
جماع أبواب الجد -- باب: ميراث الجد باب: دادا کے احکام و مسائل پر مشتمل تمام ابواب کا مجموعہ -- باب: دادا کی وراثت کا بیان
حدیث نمبر: 12415
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْقَافَلَائِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ الْأَوْدِيِّ قَالَ: شَهِدْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حِينَ طُعِنَ، فَذَكَرَ الْقِصَّةَ، وَفِيهَا: ⦗٤٠٢⦘ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " يَا عَبْدَ اللهِ، ائْتِنِي بِالْكَتِفِ الَّتِي كَتَبْتُ فِيهَا شَأْنَ الْجَدِّ بِالْأَمْسِ " وَقَالَ: " لَوْ أَرَادَ اللهُ أَنْ يُتِمَّ هَذَا الْأَمْرَ لَأَتَمَّهُ "، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: نَحْنُ نَكْفِيكَ هَذَا الْأَمْرَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَ: " لَا "، فَأَخَذَهَا فَمَحَاهَا بِيَدِهِ.حافظ ثناء اللہ
عمرو بن میمون رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس گیا جب انہیں زخمی کیا گیا تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے عبداللہ! دستہ لاؤ، میں اس میں لکھ دوں۔“ اور فرمایا: ”اگر اللہ چاہتا تو میں اس کو پورا کر دیتا۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما نے عرض کیا: ”اے امیر المؤمنین! ہم اس معاملے میں آپ کے لیے کافی ہیں۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”نہیں“، پھر اسے پکڑا اور اپنے ہاتھ سے لکھ دیا۔