❮
❯
حدیث نمبر: 12413
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، ثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَوْنٍ يُحَدِّثُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبِيدَةَ قَالَ: " حَفِظْتُ عَنْ عُمَرَ مِائَةَ قَضِيَّةٍ فِي الْجَدِّ "، قَالَ: وَقَالَ: " إِنِّي قَدْ قَضَيْتُ فِي الْجَدِّ قَضَايَا مُخْتَلِفَةً، كُلُّهَا لَا آلُو فِيهِ عَنِ الْحَقِّ، وَلَئِنْ عِشْتُ إِنْ شَاءَ اللهُ إِلَى الصَّيْفِ لَأَقْضِيَنَّ فِيهَا بِقَضِيَّةٍ تَقْضِي بِهِ الْمَرْأَةُ وَهِيَ عَلَى ذَيْلِهَا ".
حافظ ثناء اللہ

محمد (بن سیرین) رحمہ اللہ عبیدہ رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے جد کے بارے میں ایک سو فیصلے یاد کیے ہیں اور (حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے) کہا: میں نے جد کے بارے میں مختلف فیصلے کیے ہیں۔ میں نے سب فیصلوں میں حق تک پہنچنے میں کوئی کوتاہی نہیں کی، اگر میں گرمیوں کے موسم تک زندہ رہا تو ان شاء اللہ اس بارے میں ایسا فیصلہ کروں گا کہ عورت بھی اپنے دامن پر بیٹھے بیٹھے اس کے مطابق فیصلہ کر سکے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الفرائض / حدیث: 12413
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»