السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الفرائض— وراثت کا بیان
جماع أبواب الجد -- باب: ميراث الجد باب: دادا کے احکام و مسائل پر مشتمل تمام ابواب کا مجموعہ -- باب: دادا کی وراثت کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَحْمَدَ الْخَلَّالِيُّ، أنا أَبُو يَعْلَى الْمَوْصِلِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ مَعَانِيَ هَذِهِ الْفَرَائِضِ وَأُصُولَهَا عَنْ زَيْدِ بْنِ ثابتٍ، وَأَمَّا التَّفْسِيرُ فَتَفْسِيرُ أَبِي الزِّنَادِ عَلَى مَعَانِي زَيْدٍ، قَالَ: " وَمِيرَاثُ الْجَدِّ أَبِي الْأَبِ أَنَّهُ لَا يَرِثُ مَعَ أَبٍ دُنْيَا شَيْئًا، وَهُوَ مَعَ الْوَلَدِ الذَّكَرِ وَمَعَ ابْنِ الِابْنِ يُفْرَضُ لَهُ السُّدُسُ، وَفِيمَا سِوَى ذَلِكَ مَا لَمْ يَتْرُكِ الْمُتَوَفَّى أَخًا أَوْ أُخْتًا مِنْ أَبِيهِ يَخْلُفُ الْجَدُّ، وَيُبْدَأُ بِأَحَدٍ إِنْ ⦗٤٠١⦘ شَرَكَهُ مِنْ أَهْلِ الْفَرَائِضِ فَيُعْطَى فَرِيضَتَهُ، فَإِنْ فَضَلَ مِنَ الْمَالِ السُّدُسُ فَأَكْثَرُ مِنْهُ كَانَ لِلْجَدِّ، وَإِنْ لَمْ يَفْضُلِ السُّدُسُ فَأَكْثَرُ مِنْهُ فَلِلْجَدِّ السُّدُسُ ".سیدنا خارجہ بن زید رضی اللہ عنہما اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ دادا کی میراث یہ ہے کہ وہ باپ کے ساتھ کسی چیز کا وارث نہیں بنتا اور وہ (جد) مذکر اولاد اور پوتے کے ساتھ سدس کا حق دار بنتا ہے اور اس کے علاوہ جب میت علاتی بھائی یا بہن نہ چھوڑے تو دادا کو خلیفہ بنایا جاتا ہے اور پہلے اہل فرائض کے حصے دیے جائیں گے، پھر اگر مال سدس سے زیادہ ہوا تو دادا کو دے دیا جائے گا، اگر سدس سے زائد نہ ہو تو سدس ہی دادا کو دیا جائے گا۔
(40) «بَابُ التَّشْدِيدِ فِي الْكَلَامِ فِي مَسْأَلَةِ الْجَدِّ مَعَ الْإِخْوَةِ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ أَوْ لِلْأَبِ مِنْ غَيْرِ اجْتِهَادٍ وَكَثْرَةِ الِاخْتِلَافِ فِيهَا» ”حقیقی اور علاتی بھائیوں کے ساتھ دادا کے مسئلہ میں سختی کا بیان بغیر اجتہاد کے اور اس میں اختلاف کا بیان“