السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الفرائض— وراثت کا بیان
باب: من جعل ما فضل عن أهل الفرائض ولم يخلف عصبة ولا مولى في بيت المال ولم يرد على ذي فرض شيئا باب: اس شخص کے قول کے بیان میں جس نے مقررہ حصوں والوں سے بچ جانے والے مال کو بیت المال میں جمع کرنے کا کہا جب کہ کوئی عصبہ یا مولیٰ پیچھے نہ چھوڑا ہو اور حصہ داروں پر کچھ بھی نہ لوٹایا ہو
حدیث نمبر: 12407
قَالَ: وَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: كَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " يَرُدُّ عَلَى كُلِّ وَارِثٍ الْفَضْلَ بِحِصَّةِ مَا وَرَّثَ غَيْرَ الْمَرْأَةِ وَالزَّوْجِ ".حافظ ثناء اللہ
شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ عورت اور خاوند کے علاوہ ہر وارث پر حصے کے ساتھ زائد مال لوٹا دیتے تھے اور سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ عورت، خاوند اور پوتی پر صلبی بیٹی کے ساتھ نہ لوٹاتے تھے اور حقیقی بہن کے ساتھ علاتی بہن پر اور نہ ماں کے ساتھ اخیافی بھائیوں پر اور نہ جدہ پر مگر یہ کہ اس (جدہ) کے علاوہ کوئی وارث نہ ہوتا اور سیدنا زید رضی اللہ عنہ وارث پر کچھ نہ لوٹاتے تھے، بلکہ اسے بیت المال میں داخل کردیتے تھے۔