حدیث نمبر: 12404
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا سُفْيَانُ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: أَتَيْتُ عَبْدَ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ فَقُلْتُ: إِنَّ رَجُلًا كَانَ فِينَا نَازِلًا فَخَرَجَ إِلَى الْجَبَلِ فَمَاتَ وَتَرَكَ ثَلَاثَمِائَةِ دِرْهَمٍ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: " هَلْ تَرَكَ وَارِثًا، أَوْ لِأَحَدٍ مِنْكُمْ عَلَيْهِ عَقْدُ وَلَاءٍ؟ " قُلْتُ: لَا، قَالَ: " لَهُ هَا هُنَا وَرَثَةٌ كَثِيرٌ " فَجَعَلَ مَالَهُ فِي بَيْتِ الْمَالِ.
حافظ ثناء اللہ

مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، میں نے کہا: ایک آدمی ہم میں آیا تھا، وہ پہاڑ کی طرف گیا اور فوت ہو گیا، اس نے تین سو درہم چھوڑے ہیں۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا اس کا کوئی وارث ہے یا تم میں سے کوئی اس کی «الْوَلَاءُ» ”ولاء“ رکھتا ہو؟ میں نے کہا: نہیں۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: یہاں بہت زیادہ وارث ہیں اور اس کا مال بیت المال میں داخل کر دیا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الفرائض / حدیث: 12404
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»