السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الفرائض— وراثت کا بیان
باب: من جعل ميراث من لم يدع وارثا ولا مولى في بيت المال باب: اس شخص کے قول کے بیان میں جس نے لاوارث اور بغیر مولیٰ والے شخص کی وراثت کو بیت المال کے لیے قرار دیا
حدیث نمبر: 12399
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْهَوْزَنِيِّ، عَنِ الْمِقْدَامِ الْكِنْدِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَا أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ، فَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيْعَةً فَإِلَيْنَا، وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ، وَأَنَا مَوْلَى مَنْ لَا مَوْلَى لَهُ، أَرِثُ مَالَهُ، وَأَفُكُّ عَانَهُ، وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ، يَرِثُ مَالَهُ وَيَفُكُّ عَانَهُ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا مقدام کندی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں ہر مومن کا اس کی جان سے زیادہ قریبی ہوں، جو قرض یا اولاد چھوڑے وہ ہماری طرف ہے اور جو مال چھوڑے وہ اس کے ورثاء کے لیے ہے اور جس کا کوئی والی نہ ہو میں اس کا والی ہوں۔ میں اس کے مال کا وارث ہوں اور اس کے قیدی چھڑاؤں گا اور ماموں اس کا وارث ہے جس کا کوئی اور وارث نہ ہو، وہ اس کے مال کا وارث ہے اور اس کے قیدیوں کو چھڑائے گا۔“