السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الفرائض— وراثت کا بیان
باب: من لم يورث أكثر من جدتين باب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے دو سے زائد دادیوں کو وارث نہیں بنایا
حدیث نمبر: 12347
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ قَالَ: قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ: جَاءَتِ الْأَخْبَارُ عَنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَمَاعَةٍ مِنَ التَّابِعِينَ أَنَّهُمْ " وَرَّثُوا ثَلَاثَ جَدَّاتٍ مَعَ الْحَدِيثِ الْمُنْقَطِعِ الَّذِي يُرْوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ وَرَّثَ ثَلَاثَ جَدَّاتٍ " وَلَا نَعْلَمُ عَنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خِلَافَ ذَلِكَ، إِلَّا مَا رُوِّينَا عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ مِمَّا لَا يُثْبِتُ أَهْلُ الْمَعْرِفَةِ بِالْحَدِيثِ إِسْنَادَهُ.حافظ ثناء اللہ
محمد بن نصر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نبی ﷺ کے اصحاب رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہم اللہ کی ایک جماعت سے یہ خبریں آئی ہیں کہ وہ تین جدات کو وارث بناتے تھے، اس منقطع حدیث کے ساتھ جو نبی ﷺ سے نقل کی جاتی ہے کہ آپ ﷺ نے تین جدات کو وارث بنایا۔ اور ہم نبی ﷺ کے اصحاب میں سے کسی سے اس کے خلاف نہیں جانتے، سوائے اس کے جو ہم نے سعد رضی اللہ عنہ سے بیان کیا، جس کی اسناد اہل معرفت کے نزدیک ثابت نہیں ہے۔