السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الفرائض— وراثت کا بیان
باب: من لم يورث أكثر من جدتين باب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے دو سے زائد دادیوں کو وارث نہیں بنایا
حدیث نمبر: 12346
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، أنبأ ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: " لَا نَعْلَمُهُ وَرَّثَ فِي الْإِسْلَامِ إِلَّا جَدَّتَيْنِ " وَهَذَا قَوْلُ رَبِيعَةَ أَيْضًا، وَرُوِيَ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّهُ قَالَ لِابْنِ مَسْعُودٍ: أَنْتُمُ الَّذِينَ تَفْرِضُونَ لِثَلَاثِ جَدَّاتٍ، كَأَنَّهُ يُنْكِرُ ذَلِكَ. وَفِي رِوَايَةٍ أُخْرَى: وَرَّثَ حَوَّاءَ مِنْ بَنِيهَا، وَإِسْنَادُهُ لَيْسَ بِذَاكَ.حافظ ثناء اللہ
زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہم نہیں جانتے کہ اسلام میں وارث بنایا گیا ہو مگر صرف دو جدہ کو۔ سعد رضی اللہ عنہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: آپ تین جدہ کو وارث ٹھہراتے ہو؟ گویا کہ سعد رضی اللہ عنہ اس کے منکر تھے۔ ایک روایت کے الفاظ ہیں: ”حواء کو اس کا وارث بناؤ۔“