السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الفرائض— وراثت کا بیان
باب: فرض الجدة والجدتين باب: ایک یا دو دادیوں (نانیوں) کے مقررہ حصے کا بیان
حدیث نمبر: 12342
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ أَنَّهُ قَالَ: أَتَتِ الْجَدَّتَانِ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَأَرَادَ أَنَ يَجْعَلَ السُّدُسَ لِلَّتِي مِنْ قِبَلِ الْأُمِّ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: أَمَا إِنَّكَ تَتْرُكُ الَّتِي لَوْ مَاتَتَا وَهُوَ حَيٌّ كَانَ إِيَّاهَا يَرِثُ " فَجَعَلَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ السُّدُسَ بَيْنَهُمَا ".حافظ ثناء اللہ
قاسم بن محمد فرماتے ہیں: دو جدہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئیں، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا ارادہ تھا کہ نانی کے لیے «السُّدُسُ» ”سدس“ مقرر کر دیں، انصار کے ایک آدمی نے کہا: ”آپ اسے چھوڑ رہے ہیں کہ اگر وہ مرتی اور مرنے والا زندہ ہوتا تو وہی اس کا وارث ہوتا؟“ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو «السُّدُسُ» ”سدس“ دے دیا۔