حدیث نمبر: 12337
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خَرَشَةَ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ قَالَ: " جَاءَتِ الْجَدَّةُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا، فَقَالَ لَهَا أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: مَا لَكِ فِي كِتَابِ اللهِ شَيْءٌ، وَمَا عَلِمْتُ لَكِ فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا، فَارْجِعِي حَتَّى أَسْأَلَ النَّاسَ، فَقَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ: حَضَرْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَاهَا السُّدُسَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَلْ مَعَكَ غَيْرُكَ؟ فَقَامَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ الْأَنْصَارِيُّ فَقَالَ مِثْلَ مَا قَالَ الْمُغِيرَةُ، فَأَنْفَذَهُ لَهَا أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، ثُمَّ جَاءَتِ الْجَدَّةُ الْأُخْرَى إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا، فَقَالَ: مَا لَكِ فِي كِتَابِ اللهِ شَيْءٌ، وَمَا كَانَ الْقَضَاءُ الَّذِي قَضَى بِهِ إِلَّا لِغَيْرِكِ، وَمَا أَنَا بِزَائِدٍ فِي الْفَرَائِضِ شَيْئًا، وَلَكِنْ هُوَ ذَاكَ السُّدُسُ، فَإِنِ اجْتَمَعْتُمَا فِيهِ فَهُوَ بَيْنَكُمَا، وَأَيَّتُكُمَا خَلَتْ بِهِ فَهُوَ لَهَا ".
حافظ ثناء اللہ

قبیصہ بن ذویب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ایک «جَدَّة» (دادی، نانی) حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور اپنی میراث کا سوال کیا، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسے کہا: ”تیرے لیے اللہ کی کتاب میں کچھ نہیں اور رسول اللہ ﷺ کی سنت میں نہیں جانتا کہ تیرے لیے کچھ ہو، تو لوٹ جا اور لوگوں سے پوچھ۔“ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوا، آپ ﷺ نے «جَدَّة» کو «السُّدُسُ» ”چھٹا حصہ“ دیا“، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”تیرے ساتھ کوئی اور بھی تھا؟“ تو محمد بن مسلمہ انصاری رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، انہوں نے مغیرہ کی مثل کہا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کے لیے میراث مقرر کر دی، پھر ایک دوسری «جَدَّة» حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور ان سے میراث کا سوال کیا، انہوں نے کہا: ”اللہ کی کتاب میں تیرے لیے کوئی چیز نہیں اور جو فیصلہ کیا تھا، وہ تیرے علاوہ کے لیے تھا اور میں فرائض میں کچھ زیادتی نہیں کر سکتا۔ لیکن اگر میں تم دونوں کو اکٹھے پاتا تو «السُّدُسُ» ”چھٹا حصہ“ دونوں کو دے دیتا اور تم دونوں میں سے جو گزر جاتی وہ اس کے لیے تھا۔“ [صحیح]

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الفرائض / حدیث: 12337