حدیث نمبر: 12305
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا الثَّوْرِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: أَرْسَلَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ إِلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَسْأَلُهُ عَنْ زَوْجٍ وَأَبَوَيْنِ، فَقَالَ زَيْدٌ: " لِلزَّوْجِ النِّصْفُ، وَلِلْأُمِّ ثُلُثُ مَا بَقِيَ، وَلِلْأَبِ بَقِيَّةُ الْمَالِ " فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " لِلْأُمِّ الثُّلُثُ كَامِلًا " لَفْظُ حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ، وَفِي رِوَايَةِ رَوْحٍ: وَلِلْأُمِّ ثُلُثُ مَا بَقِيَ، وَهُوَ السُّدُسُ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَفِي كِتَابِ اللهِ تَجِدُ هَذَا؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنْ أَكْرَهُ أَنْ أُفَضِّلَ أُمًّا عَلَى أَبٍ، قَالَ: وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يُعْطِي الْأُمَّ الثُّلُثَ مِنْ جَمِيعِ الْمَالِ.
حافظ ثناء اللہ

عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا تاکہ ان سے خاوند اور والدین کے بارے میں سوال کروں، زید رضی اللہ عنہ نے کہا: خاوند کے لیے نصف اور ماں کے لیے باقی کا ثلث اور باپ کے لیے باقی مال۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ماں کے لیے مکمل مال کا ثلث۔
ایک روایت میں ہے کہ ماں کے لیے باقی کا ثلث جو کہ سدس ہے، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے زید رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا کہ کیا آپ کتاب اللہ میں اس طرح پاتے ہیں؟ انہوں نے کہا: نہیں، لیکن میں ناپسند کرتا ہوں کہ ماں کو باپ پر ترجیح دوں اور ابن عباس رضی اللہ عنہما ماں کو تمام مال سے ثلث دیتے تھے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الفرائض / حدیث: 12305
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»