السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الفرائض— وراثت کا بیان
باب: لا يرث مع الأب أبواه باب: باپ کے ہوتے ہوئے اس کے والدین (یعنی دادا دادی) وارث نہیں ہوتے
وَأَمَّا الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ فِي الْجَدَّةِ مَعَ ابْنِهَا أَنَّهُ قَالَ: " أَوَّلُ جَدَّةٍ أَطْعَمَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُدُسًا مَعَ ابْنِهَا، وَابْنُهَا حَيٌّ " فَمُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ يَتَفَرَّدُ بِهِ هَكَذَا. وَرُوِيَ عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ: أُنْبِئْتُ، وَعَنْ أَشْعَثَ بْنِ سَوَّارٍ، عَنِ ابْنِ ⦗٣٧١⦘ سِيرِينَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، وَعَنْ أَشْعَثَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنِ الْحَسَنِ وَابْنِ سِيرِينَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَحَدِيثُ يُونُسَ وَأَشْعَثَ مُنْقَطِعٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ غَيْرُ مُحْتَجٍّ بِهِ، وَإِنَّمَا الرِّوَايَةُ الصَّحِيحَةُ فِيهِ عَنْ عُمَرَ وَعَبْدِ اللهِ وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ.سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے دادی کے بارے میں منقول ہے جبکہ اس کا بیٹا موجود ہو کہ پہلے دادی کو رسول اللہ ﷺ نے چھٹا حصہ دیا تھا جبکہ اس کا بیٹا بھی زندہ تھا۔
محمد بن سالم اسے اس طرح بیان کرنے میں منفرد ہے۔ یہ یونس سے، انہوں نے ابن سیرین سے روایت کیا ہے، انہوں نے کہا: مجھے خبر دی گئی، اور اشعث بن سوار سے، انہوں نے ابن سیرین سے، انہوں نے عبداللہ سے، اور اشعث بن عبدالملک سے، انہوں نے حسن اور ابن سیرین سے، انہوں نے نبی ﷺ سے۔ یونس اور اشعث کی حدیث منقطع ہے، اور محمد بن سالم قابلِ حجت نہیں، اس بارے میں صحیح روایت صرف سیدنا عمر، سیدنا عبداللہ اور سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہم سے ہے۔