❮
❯
حدیث نمبر: 12278
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، قَالَا: ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ، عَنْ طَاوُسٍ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: " كُنْتُ آخِرَ النَّاسِ عَهْدًا بِعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: الْقَوْلُ مَا قُلْتُ، قُلْتُ: مَا قُلْتَ؟ قَالَ: الْكَلَالَةُ مَنْ لَا وَلَدَ لَهُ " كَذَا فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ، وَالَّذِي رُوِّينَا عَنْ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ فِي تَفْسِيرِ الْكَلَالَةِ أَشْبَهُ بِدَلَائِلِ الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ مِنْ هَذِهِ الرِّوَايَةِ، وَأَوْلَى أَنْ يَكُونَ صَحِيحًا؛ لِانْفِرَادِ هَذِهِ الرِّوَايَةِ وَتَظَاهُرِ الرِّوَايَاتِ عَنْهُمَا بِخِلَافِهَا، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ

طاؤس رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا وہ کہتے تھے: میں لوگوں میں سب سے آخر میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ملنے والا تھا، میں نے انہیں کہتے سنا: بات وہی ہے جو میں نے کہی۔ میں نے پوچھا: آپ نے کیا کہا تھا؟ انہوں نے فرمایا: کلالہ وہ ہے جس کی اولاد نہ ہو۔
اس روایت میں اسی طرح ہے، اور کلالہ کی تفسیر میں سیدنا عمر اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم سے جو ہم نے روایت کیا ہے وہ اس روایت کی نسبت کتاب و سنت کے دلائل سے زیادہ مشابہ ہے اور اس کے صحیح ہونے کا زیادہ حق دار ہے؛ کیونکہ یہ روایت منفرد ہے اور ان دونوں سے متعدد روایات اس کے خلاف ہیں، واللہ اعلم۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الفرائض / حدیث: 12278
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»