حدیث نمبر: 12270
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ثنا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ أَبُو خَيْثَمَةَ، ثنا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، ⦗٣٦٨⦘ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ قَالَ: خَطَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ فِيهِ: مَا أَغْلَظَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ مَا نَازَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَيْءٍ أَكْثَرَ مِنْ آيَةِ الْكَلَالَةِ، حَتَّى ضَرَبَ صَدْرِي وَقَالَ: " يَكْفِيكَ مِنْهَا آيَةُ الصَّيْفِ الَّتِي أُنْزِلَتْ فِي آخِرِ سُورَةِ النِّسَاءِ {يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ} [النساء: ١٧٦] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، وَسَأَقْضِي فِيهَا بِقَضَاءٍ يَعْلَمُهُ مَنْ يَقْرَأُ وَمَنْ لَا يَقْرَأُ "، وَهُوَ مَا خَلَا الْأَبَ، كَذَا أَحْسَبُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ.
حافظ ثناء اللہ

معدان بن ابی طلحہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا، اس میں یہ بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے آیتِ کلالہ کے بارے میں بار بار سوال کیا، اتنا کسی اور چیز کے بارے میں نہیں پوچھا اور آپ ﷺ نے بھی اتنی ہی سختی سے مجھے جواب دیا، یہاں تک کہ آپ ﷺ نے میرے سینے پر ہاتھ مارا اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”تجھے وہ آیت کافی نہیں جو گرمی کے موسم میں نازل ہوئی، جو سورة النساء کے آخر میں ہے: ﴿يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ﴾ [سورة النساء: 176]۔“ عنقریب میں ایسا فیصلہ دوں گا کلالہ کے بارے میں، اس کو جان لے گا جو پڑھتا ہے یا نہیں پڑھتا اور وہ (کلالہ) جس کا باپ نہ ہو جیسا کہ میں نے سمجھا ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الفرائض / حدیث: 12270
درجۂ حدیث محدثین: مسلم 567
تخریج حدیث «مسلم 567»