حدیث نمبر: 12268
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا سُفْيَانُ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ الْمُنْكَدِرِ يُحَدِّثُ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُ: " مَرِضْتُ، فَأَتَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي هُوَ وَأَبُو بَكْرٍ مَاشِيَيْنِ وَقَدْ أُغْمِيَ عَلَيَّ، فَلَمْ أُكَلِّمْهُ، فَتَوَضَّأَ وَصَبَّهُ عَلَيَّ، فَأَفَقْتُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، كَيْفَ أَصْنَعُ فِي مَالِي وَلِي أَخَوَاتٌ؟ قَالَ: فَنَزَلَتْ آيَةُ الْمِيرَاثِ {يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ} [النساء: ١٧٦] " مَنْ كَانَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أَخَوَاتٌ. وَفِي رِوَايَةِ شُعْبَةَ عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ: إِنَّمَا يَرِثُنِي كَلَالَةٌ، فَسَمَّى مَنْ يَرِثُهُ كَلَالَةً، وَقَدْ مَضَى ذِكْرُهُ. قَالَ الشَّيْخُ: وَجَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الَّذِي نَزَلَتْ فِيهِ آيَةُ الْكَلَالَةِ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلَدٌ وَلَا وَالِدٌ؛ لِأَنَّ أَبَاهُ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ، وَهَذِهِ الْآيَةُ نَزَلَتْ بَعْدَهُ.
حافظ ثناء اللہ

ابن منکدر رحمہ اللہ نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ میں بیمار ہوا تو نبی ﷺ نے میری عیادت کی، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی ساتھ تھے، وہ پیدل چلتے ہوئے آئے اور میں بے ہوش تھا، میں نے آپ ﷺ سے کوئی بات نہ کی، آپ ﷺ نے وضو کیا اور مجھ پر وضو کے چھینٹے ڈالے، مجھے افاقہ ہوا تو میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! میں اپنے مال کا کیا کروں؟ اور میری بہنیں بھی ہیں“، آپ ﷺ نے فرمایا: ”آیتِ میراث نازل ہوئی ہے: ﴿يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ﴾ [سورة النساء: 176]“ یعنی جس کی اولاد نہ ہو اور بہنیں ہوں۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: میرا وارث کلالہ بنا ہے، تو انہوں نے نام لیا کہ کون کلالہ وارث ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: آیتِ میراث سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے بارے میں نازل ہوئی، نہ ان کی کوئی اولاد تھی اور نہ والدین تھے، کیونکہ ان کے والد احد کے دن شہید ہو گئے تھے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الفرائض / حدیث: 12268
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»