السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الفرائض— وراثت کا بیان
باب: ميراث من عمي موته باب: جس شخص کی موت پوشیدہ رہی (جس کے مرنے کا علم نہ ہو سکا) اس کی وراثت کا بیان
حدیث نمبر: 12257
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ حَزْنِ بْنِ بَشِيرٍ الْخَثْعَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَلِيًّا " وَرَّثَ رَجُلًا وَابْنَهُ، أَوْ أَخَوَيْنِ، أُصِيبَا بِصِفِّينَ، لَا يُدْرَى أَيُّهُمَا مَاتَ قَبْلَ الْآخَرِ، فَوَرَّثَ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ " كَذَا قَالَ، وَنَحْنُ إِنَّمَا نَأْخُذُ بِالرِّوَايَةِ الْأُولَى.حافظ ثناء اللہ
حزن بن بشیر خثعمی اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی اور اس کے بیٹے کو، یا دو بھائیوں کو، جو صفین میں مارے گئے تھے اور یہ معلوم نہ تھا کہ دونوں میں سے پہلے کون فوت ہوا، وارث ٹھہرایا، پس بعض کو بعض کا وارث بنا دیا۔ [ضعیف]