السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الفرائض— وراثت کا بیان
باب: من قال بتوريث ذوي الأرحام باب: ذوی الارحام کو وارث قرار دینے والے کے قول کا بیان
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ الْقَطَّانُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، أنا جَرِيرٌ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ أَصْحَابِهِ، كَانَ عَلِيٌّ وَعَبْدُ اللهِ " إِذَا لَمْ يَجِدُوا ذَا سَهْمٍ أَعْطَوَا الْقَرَابَةَ أَعْطَوْا بِنْتَ الْبِنْتِ الْمَالَ كُلَّهُ، وَالْخَالَ الْمَالَ كُلَّهُ، وَكَذَلِكَ ابْنَةُ الْأَخِ، وَابْنَةَ الْأُخْتِ لِلْأُمِّ، أَوْ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ، أَوْ لِلْأَبِ، وَالْعَمَّةَ، وَابْنَةَ الْعَمِّ، وَابْنَةَ بِنْتِ الِابْنِ، وَالْجَدَّ مِنْ قِبَلِ الْأُمِّ، وَمَا قَرُبَ أَوْ بَعُدَ إِذَا كَانَ رَحِمًا فَلَهُ الْمَالُ إِذَا لَمْ يُوجَدْ غَيْرُهُ، فَإِنْ وُجِدَ ابْنَةُ بِنْتٍ وَابْنَةُ أُخْتٍ فَالنِّصْفُ وَالنِّصْفُ، وِإِنْ كَانَتْ عَمَّةٌ وَخَالَةٌ فَالثُّلُثُ وَالثُّلُثَانِ، وَابْنَةُ الْخَالِ وَابْنَةُ الْخَالَةِ الثُّلُثُ وَالثُّلُثَانِ ".مغیرہ رحمہ اللہ اپنے ساتھیوں سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا علی اور سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما جب کوئی حصہ دار نہ پاتے تو قرابت دار کو دے دیتے، انہوں نے نواسی کو سارا مال دیا اور ماموں کو بھی سارا مال دیا، اس بھتیجی اور بھانجی کو، جو ماں کی طرف سے ہو یا باپ کی طرف سے، اسے بھی مال دیا اور پھوپھی اور چچا کی بیٹی اور پوتی اور نانی، جو قریب سے ہو یا دور سے، جب محرم ہو ان سب کو کسی کے نہ ہونے کی صورت میں مال دیا، اگر نواسی پائی جائے اور بھانجی پائی جائے تو نصف نصف دیا جائے گا اور اگر پھوپھی اور خالہ ہوں تو ایک تہائی اور دو تہائی ہوگا اور ماموں کی بیٹی اور خالہ کی بیٹی کو ایک تہائی اور دو تہائی دیا جائے گا۔