حدیث نمبر: 12217
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، ثنا سُفْيَانُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، ثنا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ، أَنَّ ثَابِتَ بْنَ الدَّحْدَاحِ كَانَ رَجُلًا أَتِيًّا فِي بَنِي أُنَيْفٍ، أَوْ فِي بَنِي الْعَجْلَانِ، مَاتَ، فَسَأَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ لَهُ وَارِثٌ؟ " فَلَمْ يَجِدُوا لَهُ وَارِثًا، فَدَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِيرَاثَهُ إِلَى ابْنِ أُخْتِهِ، وَهُوَ أَبُو لُبَابَةَ بْنُ عَبْدِ الْمُنْذِرِ لَفْظُ حَدِيثِ الْأَرْدَسْتَانِيِّ، وَحَدِيثُ أَبِي عَبْدِ اللهِ مُخْتَصَرًا، لَمْ يُسَمِّ الْوَارِثَ وَالْمُوَرَّثَ، وَهُوَ مُنْقَطِعٌ.
حافظ ثناء اللہ

ثابت بن دحداح رضی اللہ عنہ نامی بنی انیف یا بنی عجلان میں ایک اجنبی آدمی تھے، وہ فوت ہو گئے تو نبی ﷺ نے سوال کیا: ”کیا اس کا کوئی وارث ہے؟“ انہوں نے اس کا کوئی وارث نہ پایا تو نبی ﷺ نے اس کی وراثت اس کے بھانجے کو دے دی اور وہ ابولبابہ بن عبدالمنذر رضی اللہ عنہ تھے۔
(الف) ثابت بن دحداح رضی اللہ عنہ کے بارے میں منقول ہے کہ وہ فوت ہو گئے، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم اس کا نسب جانتے ہو؟“ اس نے کہا: نہیں اور وہ تو ہم میں اجنبی تھا تو رسول اللہ ﷺ نے اس کی وراثت کا فیصلہ اس کے بھانجے کے حق میں کیا۔
شیخ فرماتے ہیں: وہ احد کے دن فوت ہوئے تھے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الفرائض / حدیث: 12217
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»