حدیث نمبر: 12211
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ عَتِيقٍ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ حُجْرٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ يَحْيَى بْنِ الْمِقْدَامِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَنَا وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ، أَفُكُّ عُنِيَّهُ وَأَرِثُ مَالَهُ، وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ، يَفُكُّ عُنِيَّهُ وَيَرِثُ مَالَهُ ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا یحییٰ بن مقدام اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں اس کا وارث ہوں جس کا کوئی وارث نہ ہو، میں اس کے قیدیوں کو چھڑاؤں گا اور اس کے مال کا وارث ہوں اور ماموں اس کا وارث ہے جس کا کوئی وارث نہ ہو، وہ اس کے قیدیوں کو چھڑائے گا اور اس کے مال کا وارث بنے گا۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الفرائض / حدیث: 12211
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره
تخریج حدیث «حسن لغيره»