السنن الكبرى للبيهقي
كتاب اللقطة— گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
باب: ذكر بعض من صار مسلما بإسلام أبويه أو أحدهما من أولاد الصحابة رضي الله عنهم باب: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی اولاد میں سے ان بعض افراد کا ذکر جو اپنے والدین یا ان دونوں میں سے کسی ایک کے اسلام لانے سے مسلمان ہو گئے
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْمَدَنِيُّ، قَالَ أَحْمَدُ رَحِمَهُ اللهُ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ قَالَ: كُنْتُ أَقْرَأُ عَلَى أُمِّ سَعْدٍ بِنْتِ الرَّبِيعِ، وَكَانَتْ يَتِيمَةً فِي حِجْرِ أَبِي بَكْرٍ، فَقَرَأْتُ {وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ} [النساء: ٣٣]، فَقَالَتْ: " لَا تَقْرَأْ {وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ} [النساء: ٣٣]؛ إِنَّمَا نَزَلَتْ فِي أَبِي بَكْرٍ وَابْنِهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حِينَ أَبَى الْإِسْلَامَ، فَحَلَفَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ لَا يُوَرِّثَهُ، فَلَمَّا أَسْلَمَ أَمَرَهُ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُؤْتِيَهُ نَصِيبَهُ " زَادَ عَبْدُ الْعَزِيزِ: " وَمَا أَسْلَمَ حَتَّى حُمِلَ عَلَى الْإِسْلَامِ بِالسَّيْفِ " قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ رَحِمَهُ اللهُ: وَزَعَمَ الْوَاقِدِيُّ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ أَسْلَمَ فِي هُدْنَةِ الْحُدَيْبِيَةِ. وَزَعَمَ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ أَنَّهُ هَاجَرَ فِي فِتْيَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ الْفَتْحِ. وَزَعَمَ أَبُو عُبَيْدَةَ أَنَّ اسْمَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ عَبْدُ الْعُزَّى، فَسَمَّاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ. وَزَعَمَ مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الزُّبَيْرِيُّ أَنَّ أُمَّ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَعَائِشَةَ أُمُّ رُومَانَ بِنْتَ عَامِرٍ، أَسْلَمَتْ وَحَسُنَ إِسْلَامُهَا.حضرت داؤد بن حصین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں ام سعد بنت ربیع کے پاس پڑھتا تھا، اور وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس یتیمی کی حالت میں رہ چکی تھیں، میں نے آیت پڑھی: ﴿وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ﴾ [سورة النساء: 33] انھوں نے کہا: ”اس طرح نہ پڑھ بلکہ ﴿وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ﴾ [سورة النساء: 33] ہے“، یہ آیت ابوبکر اور ان کے بیٹے عبدالرحمن رضی اللہ عنہما کے بارے میں نازل ہوئی جب عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے قسم اٹھائی کہ وہ اسے وراثت سے محروم کر دیں گے، جب وہ مسلمان ہوا تو نبی ﷺ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ ”اس کا حصہ اسے دے دیں۔“
ایک روایت کے الفاظ ہیں کہ وہ اسلام پر آمادہ تلوار کے ساتھ ہوا تھا۔
امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں واقدی کا خیال ہے کہ عبدالرحمن رضی اللہ عنہ حدیبیہ کی صلح کے وقت مسلمان ہوا اور علی بن زید کا خیال ہے کہ اس نے قریش کے نوجوانوں کے ساتھ مل کر فتح مکہ سے پہلے نبی ﷺ کی طرف ہجرت کی تھی اور ابوعبید کا خیال ہے کہ جاہلیت میں عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کا نام عبدالعزیٰ تھا، رسول اللہ ﷺ نے اس کا نام ”عبدالرحمن“ رکھا اور مصعب بن عبداللہ کا خیال ہے کہ ام عبدالرحمن، عائشہ، ام رومان بنت عامر رضی اللہ عنہن اسلام لائیں اور ان کا اسلام بہترین ہے۔