السنن الكبرى للبيهقي
كتاب اللقطة— گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
باب: ذكر بعض من صار مسلما بإسلام أبويه أو أحدهما من أولاد الصحابة رضي الله عنهم باب: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی اولاد میں سے ان بعض افراد کا ذکر جو اپنے والدین یا ان دونوں میں سے کسی ایک کے اسلام لانے سے مسلمان ہو گئے
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُكْرَمٍ الطَّسْتِيُّ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ شَرِيكٍ الْبَزَّارُ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: " وَاللهِ مَا عَقَلْتُ أَبَوَيَّ قَطُّ إِلَّا يَدِينَانِ الدِّينَ، وَمَا مَرَّ عَلَيْنَا يَوْمٌ قَطُّ إِلَّا يَأْتِينَا فِيهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُكْرَةً وَعَشِيًّا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ. قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ رَحِمَهُ اللهُ: وَعَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وُلِدَتْ عَلَى الْإِسْلَامِ؛ لِأَنَّ أَبَاهَا أَسْلَمَ فِي ابْتِدَاءِ الْمَبْعَثِ، وَثَابِتٌ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَهَا وَهِيَ ابْنَةُ سِتٍّ، وَبَنَى بِهَا وَهِيَ ابْنَةُ تِسْعٍ، وَمَاتَ عَنْهَا وَهِيَ ابْنَةُ ثَمَانَ عَشْرَةَ، لَكِنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ وُلِدَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، ثُمَّ أَسْلَمَتْ بِإِسْلَامِ أَبِيهَا؛ لِأَنَّهَا هَاجَرَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ حُبْلَى بِعَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، فَوَضَعَتْهُ بِقُبَاءَ، فَلَمْ تُرْضِعْهُ حَتَّى أَتَتْ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَنَّكَهُ وَدَعَا لَهُ، وَكَانَ أَوَّلَ مَوْلُودٍ وُلِدَ فِي الْإِسْلَامِ بَعْدَ مَقْدَمِهِ الْمَدِينَةَ.عروہ بن زبیر رحمہ اللہ نے خبر دی کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے تو میں نے اپنے والدین کو اسلام پر ہی پایا ہے اور کوئی دن ایسا نہیں گزرا جس دن صبح اور شام رسول اللہ ﷺ ہمارے گھر نہ آئے ہوں۔“
امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اسلام پر پیدا ہوئیں اس لیے کہ ان کے والدین ابتدا ہی سے اسلام پر تھے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب ان سے شادی کی تو ان کی عمر چھ سال تھی اور جب رخصتی ہوئی اس وقت نو سال تھی اور جب آپ ﷺ فوت ہوئے اس وقت آپ رضی اللہ عنہا کی عمر اٹھارہ برس تھی۔ لیکن سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما جاہلیت میں پیدا ہوئیں۔ پھر اپنے باپ کی وجہ سے مسلمان ہوئیں، اس لیے کہ انہوں نے جب نبی ﷺ کی طرف ہجرت کی، اس وقت وہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے ساتھ حاملہ تھیں۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہما نے ان (ابن زبیر) کو قباء میں جنم دیا۔ انہیں دودھ نہ پلایا یہاں تک کہ وہ نبی ﷺ کے پاس لے آئیں۔ آپ ﷺ نے ان کے تالو کو کوئی چیز لگائی (گھٹی دی) اور ان کے لیے دعا کی اور وہ اسلام کے پہلے بچے تھے جو مدینہ آنے کے بعد پیدا ہوئے۔