السنن الكبرى للبيهقي
كتاب اللقطة— گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
باب: ما جاء فيمن أحيا حسيرا باب: اس شخص کے متعلق جس نے تھکے ہارے جانور کو تندرست کیا
حدیث نمبر: 12116
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ، أنبأ أَحْمَدُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا خَالِدٌ، ثنا مُطَرِّفٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، فِي رَجُلٍ سَيَّبَ دَابَّتَهُ فَأَخَذَهَا رَجُلٌ فَأَصْلَحَهَا، قَالَ: قَالَ الشَّعْبِيُّ: " هَذَا قَدْ قُضِيَ فِيهِ إِنْ كَانَ سَيَّبَهَا فِي كَلَأٍ وَمَاءٍ وَأَمْنٍ فَصَاحِبُهَا أَحَقُّ بِهَا، وَإِنْ كَانَ سَيَّبَهَا فِي مَفَازَةٍ وَمَخَافَةٍ فَالَّذِي أَخَذَهَا أَحَقُّ بِهَا ".حافظ ثناء اللہ
امام شعبی رحمہ اللہ سے اس آدمی کے بارے میں منقول ہے جو اپنے جانور کو بیماری کی وجہ سے چھوڑ دے، پھر اسے کوئی دوسرا آدمی پکڑ لے اور اسے درست کر دے، شعبی رحمہ اللہ نے کہا: ”اس میں فیصلہ یہ ہے کہ اگر وہ اس کا علاج گھاس پانی سے کرے تو اس کا اصل مالک اس کا زیادہ حق دار ہے اور اگر وہ اس کا علاج کامیابی اور ڈر کی حالت میں کرے تو اسے پکڑنے والا اس کا حق دار ہے۔“